قومی اسمبلی اجلاس کا آ غا ز دس منٹ تاخیر سے ہو ا

ایاز صادق نے درجن بھر سے زائد اراکین کی چھٹی کی درخواستیں پڑھ کر منظور کیں

جمعرات مئی 16:33

قومی اسمبلی اجلاس کا آ غا ز  دس منٹ تاخیر سے ہو ا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت مقررہ وقت سے دس منٹ تاخیر کے ساتھ 10 بجکر 40 منٹ پر شروع ہوا۔ ابتداء میں ایوان میں حاضر اراکین کی تعداد 12 تھی ۔ تاہم دوران اجلاس اراکین اسمبلی ایوان میں آتے رہے ۔ تلاوت کلام پاک و نعتیہ کلام کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے درجن بھر سے زائد اراکین کی چھٹی کی درخواستیں پڑھ کر منظور فرمائیں ۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس موقع پر پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ بجٹ سیشن میں لیگل پریکٹشنز اینڈ بار کونسلز کا ترمیمی بل ایجنڈے کا حصہ ہونا حیرت انگیز ہے ۔ اسپیکر ایاز صادق نے بتایا کہ آج گورنمنٹ ڈے ہے اور ایجنڈے پر موجود بل صرف پیش کیا جا رہا ہے پاس نہیں کیا جا رہا ۔

(جاری ہے)

آئین اس عمل کی اجازت دیتا ہے ۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے اعتراض اٹھایا کہ بل کے مکمل صفحات بھی اراکین کے ٹیبل پر فراہم نہیں کئے گئے ۔

اسپیکر ایاز صادق نے اس پر ارزاہ تکلف کہا کہ سیکرٹریٹ سٹاف کیا سمجھ رہا ہے ڈاکٹر صاحبہ کا دورانیہ مکمل ہو رہا ہے تو انہیں دستاویزات مکمل فراہم نہیں کی جا رہیں ۔ انہیں معلوم ہو کہ ڈاکٹر صاحبہ دوبارہ ایوان کا ممبر منتخب ہو کر آ رہی ہیں جس لہذا ڈاکٹر صاحبہ کو سیریس لیا جائے ۔رکن اسمبلی قاری محمد یوسف نے بجٹ بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ غیر متوازن ہے اس بجٹ میں دینی مدارس کے لئے کچھ نہیں رکھا گیا۔

خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں بھی بہت خامیاں پائی جاتی ہیں ۔ ہفتے میں دوست رہنے والے ممالک اگلے ہی ہفتے دشمن ممالک کی لسٹ میں شمار ہوتے ہیں۔ وزیر داخلہ پر حملہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔ بٹ گرام میں بار بار کی درخواستوں کے باوجود تاحال یونیورسٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا۔ گزشتہ برس کیمپس کی منظوری اور اس مد میں 35 کروڑ روپے رکھے گئے تاہم صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے سبب اس پر عملدرآمد تاحال نہیں ہو سکا ہے ۔

بٹ گرام سے سی پیک کے گزرنے سے آدھے جنگلات متاثر ہو رہے ہیں جبکہ ماندہ جنگلات کو گیس کی عدم دستیابی کے سبب عوام جلانے کے لئے کاٹ رہی ہے اگر اس علاقے کے لئے گیس کی فوری منطوری دے دی جائے تو بٹ گرام کے جنگلات کو بچایا جا سکتا ہے ۔ علاقے میں ہسپتال کی سہولت بھی ناپید ہے ۔ میں گزشتہ دورانیہ میں ایوان اور اراکین کو منصفانہ بنیادوں پر وقت دینے اور بہتر انداز میں چلانے پر سپیکر ایاز صادق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔

رکن اسمبلی شہریار آفریدی نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں اندھیر نگری کا دو دورہ ہے وہ کون سا شعبہ ہے کہ جہاں ظلم نہیں ہو رہا ہے ۔پارلیمان کی کمزور ی باعث آج ملک میں رول آف لاء نظر نہیں آ رہا ۔ میں پوچھتا ہوں کہ پاکستان کی فورسز کیا کر رہی ہیں ۔ خیبرپختونخوا سے پنجاب میں آنے والے ہمارے لوگوں کو ایک سو ایک شخص کی شناخت کی جاتی ہے جب انسان کا پیسہ اس پر نہ لگے تو انسان درندے ہی بنیں گے ۔

خدا کے لئے چھوٹے صوبوں کو ان کے حقوق دیں ان کے ساتھ زیادتی نہ کریں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی اعجاز حسین جاکھرانی نے کہا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ہم موجودہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ چھٹے بجٹ کو ہم نہیں مانتے ۔ موجودہ حکومت جمہوریت پر نہیں بادشاہت پر یقین رکھتی ہے ۔آج تو ایوان کے اتحاد اور نیب قوانین کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن جب ہم کہتے تھے کہ پارلیمنٹ ہمارا گھر ہے اس کو پہلے مضبوط کریں لیکن اس وقت ہماری کسی نے نہیں سنی ۔

یہ دکھ کی بات ہے کہ جب ہم اپنے فیصلہ خود نہیں کریں گے تو پارلیمنٹ پر چڑھائی تو ہو گی ۔ سیاست میں ٹائمنگ بہت ضروری ہوتی ہے ۔ آج جب وفاقی حکومت کے گلے پھندہ فٹ کیا تو مدر اور تعاون مانگا جا رہا ہے ۔ خلائی مخلوق کی باتیں کرنے والے نام کیوں نہیں لیتے ۔ خلائی مخلوق تو آج ایوانوں میں بیٹھی ہے ۔ جب میرٹ پر ٹکٹ نہیں دیئے جائیں گے تو ایسے حالات تو بنیں گے ۔

2002 کی اسمبلی میں خلائی مخلوق واضح دیکھی جا سکتی تھی ۔2013 ء کی اسمبلی میں خلائی مخلوق موجود تھی جو آج تتر بہتر ہو گئی ہے جب تک ہم اس پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات نہیں کریں گے تو خلائی مخلوق کا آنا جانا لگا رہے گا۔میں نہیں سمجھتا کہ ان باتوں میں صدارت ہے کہ خلائی مخلوق عمران خان کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے ۔ خلائی مخلوق تو کئی اپنا بندہ لائے گی ۔

2014 کے دھرنے نے جس پارلیمنٹ کے وہ راستے دکھائے جو پندرہ برسوں میں ہم نے نہیں دیکھے ہم نے بھی جمہورتی کے لئے ان کا ساتھ دیا ۔ پاکستان پیپلزپارٹی انتخابات میں ایک دن کی تاخیر کی اجازت نہیں دے گی۔ وفاقی حکومت کا پیش کردہ موجودہ بجٹ مکمل امیروں کا ہے غریبوں کے لئے اس بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا ۔ ڈیلی ویجز کے لئے پندرہ ہزار میں کیسے ایک خاندان کا گزارہ ہو سکتا ہے آج صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کیوں نہیں دیا جا رہا ۔

پی ایس ڈی پی میں ایک طرف تین صوبے اور ایک طرف پنجاب کا بجٹ رکھا گیا ہے ۔ رکن اسمبلی کیپٹن(ر) صفدر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دورانیہ میں اپنی کسی تقریر بیان یا پوائنٹ آف آرڈر کی صورت میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس پر معزرت خواہ ہوں ۔ جناب سپیکر آج حالات ایسے ہیں کہ ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا ۔ مشرف کے تین جرم ہیں ان سے کون پوچھے گا ۔ جسٹس منیر کی خبر پر آج بے شک دہائیں دیتے رہیں لیکن اس کے غلط فیصلوں نے مکل کو دو لخت کر کے چھوڑ دیا ۔ ۔