سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیا ں

سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں سے پندرہ روز میں رپورٹ طلب کر لی

جمعرات مئی 16:33

سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیا ں
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر تمام متعلقہ اداروں سے پندرہ روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

(جاری ہے)

جمعرات کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سرابراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئییکہ پندرہ روز میں سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ سے متعلق رپورٹ دیں، افسروں کو غیر قانونی الاٹمنٹ ہو چکی وہ بیٹھے ہیں، افسروں کی تفصیلات فراہم کریں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتایا جائے ریاست نے اب تک کیا کیا، غیر قانونی آلاٹیز کو ایک ماہ میں گھر خالی کرنے ہوں گے، اگر گھر خالی نہیں کرتے تو متعلقہ ادارے خود جا کر قبضہ لے لیں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا ٹرانسفر ہو چکا لیکن گھر لیکر وہ بیٹھے ہیں، بعد ازاں عدالت نے چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز سے بھی معاملے پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔