لاہور ہائیکورٹ کا کالے ہرن کے شکار پرپابندی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کا حکم دے دیا

جمعرات مئی 16:20

لاہور۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے کالے ہرن کے شکار پرپابندی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کا حکم دے دیا،،عدالت نے کالے ہرن کے غیر قانونی شکار میں ملوث افراد کیخلاف پانچ سالوں میں کی گئی کارروائیوں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا،،لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد یاور علی نے کیس کی سماعت کی، عدالت کے روبرومقامی وکیل شیراز ذکاء نے موقف اختیار کیا کہ کالے ہرن کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے،حکومت کالے ہرن کی نسل کے تحفظ کیلئے سنجیدہ نہیں ہے،بہاولپور میں سینکڑوں کی تعداد میں کالے ہرن چوری ہوئے لیکن حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے،والڈ لائف کے تحفظ کیلئی2015میں پالیسی مرتب کی گئی تاہم اس پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوا، فاریسٹ وائلڈلائف اینڈ فشریز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سرکاری وکیل نے عدالت میں اعتراف کیا کہ کالے ہرن کی نسل معدوم ہونے کے قریب ہے،انہوں نے بتایا کہ سال دو ہزار سولہ میں چھیاسی کالے ہرن پیدا جبکہ چھیالیس ہلاک ہو گئے جس پر عدالت نے کالے ہرن کے شکار پرپابندی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی،،عدالت نے کیس کی مزید سماعت چھبیس جون تک ملتوی کرتے ہوئے کالے ہرن کے غیر قانونی شکار میں ملوث افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا گذشتہ پانچ سالوں کا ریکارڈ طلب کر لیا۔