ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد فاروق نے ملزمان کی عبوری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے تھانہ صدر تلہ گنگ سے 12مئی کو ریکارڈ طلب کر لیا

جمعرات مئی 16:30

چکوال ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد فاروق نے قبضہ گروپ کے ملزمان کی عبوری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے تھانہ صدر تلہ گنگ سے 12مئی کو ریکارڈ طلب کر لیا۔ ملک سعید اختر ولد غلام حیدر نے پولیس کو بتایا کہ موضع تلہ گنگ بائی پاس نزد نیو غلہ منڈی میں وہ ایک کنال جگہ کا مالک ہے اور تقریباً بیس سال قبل اس نے اپنی زمین پر بنیادیں بنائیں اور ایک کمرہ تعمیر کیا اور مزید مکان تعمیر کیلئے اینٹیں بھی موقع پر موجود ہیں ملزما ن محمد سلیم جھاٹلہ ولد خان زمان اپنے بیٹوں محمد شعیب، محمد رئیس اور محمد ادریس کے علاوہ دیگر 9مسلح افراد نے اس کو ڈرا دھمکا کر اور جان سے مار دینے کی دھمکی دی اور کہا کہ آپ لوگوں نے یہاں تعمیر کا کام دوبارہ شروع کیا تو آپ لوگوں کو جان سے مار دیں گے۔

(جاری ہے)

اُدھر شہر کے مزید شرفاء کی زمینوں پر بھی تلہ گنگ شہر کے اس مشہور قبضہ مافیا جھاٹلہ گروپ نے متعدد شہریوں کی جائیدادوں پر قبضہ کر نا شروع کر دیا ہے،،شہید کی بیٹی تعظیم اختر کو بھی قبضہ گروپ نے نہیں چھوڑا اور جس پر تعظیم اختر کی رپورٹ پر تھانہ صدر تلہ گنگ نے محمد سلیم جھاٹلہ ولد زمان خان، اکمل عباس ، محمد شعیب پسران محمد سلیم جھاٹلہ، شوکت یٰسین ولد غلام یٰسین، محمد توقیر ولد عاشق حسین اور دیگر پندرہ افراد کے ہمراہ چار دیواری کے اندر داخل ہوکر مداخلت شروع کردی اور زبردستی چاردیواری کے کونے کو گرانے کی کوشش کی، بجلی کا میٹر زبردستی اکھیڑ دیا۔

اے ایس آئی مظفر خان نے شہید کی بیٹی کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔ اُدھر شہریار حسن ولد ملک باز خان ساکن کوٹ گلہ،ملک سعید اختر ولد غلام حیدر ساکن محلہ عید گاہ تلہ گنگ، منظور حسین ولد نور حسین ساکن بلال آباد اور خان زمان ولد محمد زمان ساکن تلہ گنگ نے بتایا کہ ہماری اراضی بھی جو ہم نے 1997,1999,2003اور2004میں لاکھوں روپے کی ادائیگی کر کے مالکان سے خریدی اور زمین کا ملکیتی انتقال ہمارے نام پر محکمہ مال میں موجود ہے مگر اب قبضہ گروپ کے سرغنہ محمد سلیم جھاٹلہ اور اس کے بیٹوں اور دیگر گروہ نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت شرفاء کی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا ہے۔

ان متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اس قبضہ گروپ سے نجات دلائی جائے اور یہ قبضہ گروپ مسلسل خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیکر شرفاء کو ڈرا دھمکا کر ان کی زمینیں ہتھیا رہا ہے۔