کسی ہائوسنگ سوسائٹی نے عوام کو لوٹا تومتعلقہ سرکاری افسران بھی ذمہ دار ہوںگے، عوام کسی بھی سکیم میں سرمایہ کاری سے قبل پوری تسلی کرلینے کی روش اپنائیں، چیئرمین نیب

ملک84 ارب ڈالر کا مقروض ہے پتہ نہیں یہ رقم کہاں خرچ ہوئی، بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیازکارروائیاں کررہے ہیں کوئی خوش ہو یا ناراض قانون کے ماطبق کام کرتے رہیں گے، ہرکوئی ہمارے لئے قابل احترام ہے،ہمارے بلاوے کوتوہین نہ سمجھاجائے،جسٹس(ر) جاویداقبال کا پشاورمیں تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 16:40

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال نے کہاہے کہ اگر اب کسی بھی کوآپریٹویاہائوسنگ سوسائٹی کے ذریعے عوام کو لوٹاگیا تو اس سوسائٹی کے مالکان کے ساتھ ساتھ متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران بشمول سیکرٹریز پربھی اس کی ذمہ داری عائد ہوگی اور نیب ان افسران سے بھی بازپرس کرے گا۔ وہ جمعرات کو خیبرپختونخوانیب ہیڈکوارٹرحیات آباد میں ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے جس میں نیب کے ذریعے بدعنوان عناصر اور ایک ہائوسنگ سوسائٹی سے وصول کی جانے والی رقوم کے چیک تقسیم کئے گئے۔

چیئرمین نیب نے کہاکہ بیوروکریٹس ریاستی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ہمارے لئے قابل احترام ہیں جبکہ ہم پارلیمنٹ سمیت تمام سیاستدانوں اور معاشرے کے ہرطبقے سے واسبتہ افراد کو بھی عزت اورقدر کی نظر سے دیکھتے ہیں تاہم اگر ہم کسی بھی شخص کو پورے احترام کے ساتھ نیب کے دفتر بلاتے ہیں تاکہ اس سے معلوم کرسکیں کہ اگر اسے کسی بھی معاملے میں سرکاری رقوم کا امین بنایاگیاتھا تواس نے وہ رقوم کیسے اورکہاں خرچ کیں تو اس پرکسی کے ناراض ہونے کاکوئی جواز نہیں ۔

(جاری ہے)

جسٹس(ر)جاویداقبال نے کہاکہ یہ نیب کی آئینی وقانونی ذمہ داری ہے نیب یہ ذمہ داری بلاامتیاز طریقے سے اداکررہا ہے اور اداکرتا رہے گا اور وہ دن دورنہیں جب سب لوگ تسلیم کریں گے کہ نیب کی وجہ سے ملک سے بدعنوانی کاخاتمہ ہورہا ہے ۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ ڈبل شاہ ٹائپ کے لوگ ہرصوبے میں موجود ہیں اور اس قسم کے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے لہذا عوام کسی بھی سکیم میں سرمایہ کاری سے قبل پوری تسلی اور اطمینان کرلینے کی روش اپنائیں جبکہ متعلقہ سرکاری افسران بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بہتر سے بہتراندازمیں ادا کریں انہوں نے کہاکہ اگر ملک میں حقیقی تبدیلی چاہئے تو تمام حکومتوں کو اس طرف خصوصی توجہ دیناہوگی انہوں نے کہاکہ کرپشن کے خاتمے کیلئے خود احتسابی کے عمل کو مضبوط بنانا ضروری ہے ہرشخص اپنے اور اپنے اہل وعیال کے احتساب کو زندگی کالازمی جزوبنالے تو کرپشن کے خاتمے کی جانب تیزی سے بڑھا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ بدعنوانی کاخاتمہ صرف نیب کے بس کی بات نہیں اس کے لئے تمام سرکاری اہلکاروں اور عوام کاتعاون ناگزیر ہے انہوں نے کہاکہ سرکاری افسران ریاست اور ملک کے وفادار بنیں ، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں ، شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنناکسی کے مفاد میں نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہم ڈر اور خوف کی فضا پیدا کرنانہیں چاہتے نہ ہمیں تھانے داری کا شوق ہے آئین اور قانون نے ہمیں جوذمہ داریاں دی ہیں انہیں بلاخوف وخطر نبھاتے رہیں گے چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا۔

انہوں نے کہاکہ ملک 84ارب ڈالر کا مقروض ہے لیکن یہ رقم قومی مفاد میں خرچ ہوتی نظرنہیں آئی اب اگرکسی سے سوال کرلیا جائے کہ یہ رقم کیسے اور کہاں خرچ ہوئی تو یہ تو اس کے حق میں بہتر ہے کیونکہ اس طرح اسے اپنی صفائی کا موقع ملتاہے اور اس پر لگے الزامات دھل جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس عمل کو ذاتیات نہیں سمجھناچاہئے انہوں نے کہاکہ ہمیں الیکشن سے کوئی لینا دینا نہیں بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ہماری کوششوں کو انتخابات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے سے نہ تعبیر کیاجائے انہوں نے کہاکہ ہم کرپشن کی کسی بھی شکایت کا جواب جاننے کیلئے اگرکسی کو نیب کے دفتربلاتے ہیں تو بڑے ادب واحترام سے بلاتے ہیں لیکن کئی مرتبہ ہمارے نوٹس کا انتہائی توہین آمیز اندازمیں جواب دیاجاتا ہے اس کے بعد ہمارے پاس کیاآپریشن رہ جاتاہے انہوں نے کہاکہ جوسمجھتے ہیں گرفت نہیں ہوتی وہ غلط فہمی میں ہیں ہم اپنا کام بلاامتیاز جاری رکھے ہوئے ہیں اور مقصد اللہ کی ذات کو راضی کرناہے۔

انہوں نے کہاکہ انہوںنے کرپشن کے خلاف کارروائیوں کا آغاز نیب سے کیا اورسب سے پہلے نیب اسلام آباد ہیڈکوارٹر کی تعمیر میں کثیر فنڈزکے استعمال کی تحقیقات کیں جبکہ فرائض سے غفلت برتنے اورپوزیشن کاغلط استعمال کرنے والے نیب افسران کے خلاف بھی کارروائیاں ہوئی ہیں ۔۔چیئرمین نیب نے کہاکہ انہوں نے جمعرات کادن عوامی شکایات وصول کرنے کیلئے مخصوص کیاہے اب تک دس ہزار سے زائد شکایات وصول ہوئی ہیں جنہیں میرٹ پر دیکھاجارہاہے انہوں نے کہاکہ نیب سب کا ادارہ ہے عوام اپنی شکایات دیں جائز شکایات کا ازالہ کیاجائے گا۔