مائیکرو سافٹ پاکستان کے زیر اہتمام ہائر ایجوکیشن کمیشن میں تقریب، پاکستان سے امیجن کپ 2018ء کیلئے فاتحین کا اعلان

جمعرات مئی 18:15

مائیکرو سافٹ پاکستان کے زیر اہتمام ہائر ایجوکیشن کمیشن میں تقریب، ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) مائیکرو سافٹ پاکستان نے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں پاکستان سے امیجن کپ 2018ء کیلئے فاتحین کا اعلان کیا۔ امیجن کپ کا انعقاد طلباء میں نئی اختراعات اور جدتوں کو فروغ دینے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف نئی ایجادات پیش کرنے کیلئے کیا گیا۔

نسٹ کی ٹیم فی امان ملک بھر سے فائنل کیلئے منتخب ہونے والی 28 ٹیموں کے مابین فاتح رہی جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ایک سستی ڈیوائس جو پہنی جا سکتی ہے، کے ذریعے فیٹل ہیلتھ کو مانیٹر کرکے پاکستان اور عالمی سطح پر زچہ بچہ کی اموات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد علی نے اس سال کے قومی فائنلز کے فاتحین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس امیجن کپ کا انعقاد نئی اختراعات اور جدتوں کو پیش کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ امیجن کپ تکنیکی و سماجی انٹرپرینیور شپ کو فروغ دیتے ہوئے طلباء کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی معاشرتی مسائل سے نمٹنے کیلئے اپنی صلاحیتوں کے استعمال کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقابلے کے دوران طلباء نے نت نئی ایجادات اور نظریات پیش کئے ہیں اور اس میں حصہ لینے والے بہت سے طلباء نے جو ایجادات پیش کی ہیں ان سے کمپنیاں بے تحاشا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے طلباء پر فخر ہے جنہوں نے اس مقابلہ میں حصہ لیا اور مجھے یقین ہے کہ وہ پاکستان کیلئے بڑا نام پیدا کریں گے۔ مقابلہ میں جیتنے والی ٹیم اب امریکہ میں ایک لاکھ ڈالر کے مقابلے میں شریک ہوگی جس میں دنیا بھر سے مختلف ٹیمیں حصہ لیں گے۔ مائیکرو سافٹ امیجن کپ میں پاکستان اور دنیا بھر سے مختلف ٹیموں نے حصہ لیا۔ رواں سال 56 سے زائد مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء نے مائیکرو سافٹ پاکستان اور ایچ ای سی کے اشتراک سے منعقدہ اس مقابلے میں شرکت کی اور 102 سے زائد پراجیکٹس مقابلے میں پیش کئے گئے۔

یہ تعداد 2016ء اور 2017ء کے مقابلے میں بالترتیب 40 فیصد اور 60 فیصد زیادہ ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے تعلیمی تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے اکیڈمیا اور طلباء سے مل کر کام کر رہی ہے۔ پاکستان مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اس لحاظ سے پہلے نمبر پر رہا ہے کہ اس کے سب سے زیادہ طلباء نے اپنے پراجیکٹس امیجن کپ میں پیش کئے۔ اسی طرح پاکستان دنیا میں اس لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے کہ اس کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء نے اپنے پراجیکٹس نمائش میں رکھے۔

امیجن کپ میں پسماندہ اور محروم علاقوں کے طلباء نے بھی شرکت کی۔ حیدر آباد، جامشورو، سکھر اور کوئٹہ کے طباء نے بھی اپنی ایجادات امیجن کپ میں رکھیں۔ ان طلباء کے پراجیکٹس اور ایجادات کا پہلے علاقائی سطح پر جائزہ لیا گیا اس کے بعد منتخب ہونے والے پراجیکٹس کو قومی سطح کے مقابلوں میں پیش کیا گیا۔ مائیکرو سافٹ پاکستان کے کنٹری جنرل منیجر عابد زیدی نے کہا کہ مائیکرو سافٹ کی حیثیت سے ہم طلباء کو اس جانب راغب کرتے ہیں کہ وہ کام میں بہتری اور تبدیلی لانے کیلئے اپنے نظریات پیش کریں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ طلباء اپنی اختراعات اور ایجادات سے تبدیلی اور بہتری لا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں درست سمت میں رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کپ کا انعقاد خوش آئند ہے، ہم ایک ٹیکنالوجی کمپنی کی حیثیت سے طلباء اور نوجوانوں کو مستقبل سازی کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں۔ امیجن کپ مائیکرو سافٹ کی ان بہت سی کوششوں کا ایک حصہ ہے جس کے ذریعے وہ طلباء اور نوجوانوں میں مہارتوں کو ترقی دینے اور ان میں جدت کی روح بیدار کرنے کیلئے کام کر رہی ہے۔

اس عالمی سطح کے مقابلے سے طلباء اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جلا ملے گی اور ان کے اندر نت نئی اختراعات اور ایجادات کیلئے صلاحیتیں بیدار ہوں گی جس سے ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر پاکستان پراجیکٹس پیش کرنے کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہمیشہ آگے رہا ہے اور مستقبل میں بھی پاکستان کے نوجوان اور طلباء بہترین اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔