نیشنل ایکشن پلان پر پر پورے ملک میں سوفیصد عمل نہیں کیا گیا ،ہم سب کو نفرت کی سیاست کیخلاف اکٹھا ہونا چاہیے ‘ بلاول بھٹو

احسن اقبال پر حملے جیسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں ،مکمل تحقیقات کرائی جائیں‘ چیئرمین پی پی کی سروسز ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو

جمعرات مئی 18:24

نیشنل ایکشن پلان پر پر پورے ملک میں سوفیصد عمل نہیں کیا گیا ،ہم سب کو ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر پر پورے ملک میں سوفیصد عمل نہیں کیا گیا ،حکومت ہو یا اپوزیشن ہم سب کو نفرت کی سیاست کے خلاف اکٹھا ہونا چاہیے تاکہ انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جا سکے،،احسن اقبال پر حملے جیسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں اوراس حملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں،جب دہشتگردی کے خلاف بات کرتا رہتا تھا تو مجھے کہا جاتا تھا کہ نوجوان ہے جذباتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سروسز ہسپتال میں زیر علاج وزیر داخلہ احسن اقبال کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چوہدری منظور اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احسن اقبال کو جلد صحتیاب کرے ۔

(جاری ہے)

اس طرح کے واقعات کی ہمیشہ سے مذمت کرتا ہوں کیونکہ ہم سب انسان پہلے ہیں اورسیاستدان بعد میں ہیں ،اس طرح کے واقعات بالکل نہیں ہونے چاہئیں اور احسن اقبال پر حملے کے واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب دہشتگردی کے خلاف بات کرتا رہتا تھا تو مجھے کہا جاتا تھا کہ نوجوان ہے جذباتی ہے،کہا گیا کہ یہ ذاتی وجوہات کی بنا ء پر تنقید کرتا ہے ،مگر یہ ذاتی ایشو نہیں تھا ملک کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا ۔انہوںنے کہا کہ بڑی مشکل سے نیشنل ایکشن پلان بنا، ہم سب اس پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہے۔میں جب حقائق پر مبنی بات کرتا تھا تو لوگ اس پر تنقید کرتے تھے۔

آج بھی کہتا ہوں کہ نفرت کی سیاست کے خلاف ہم سب کو ایک ہونا چاہیے ۔چاہے کوئی حکومتی بینچوں پر ہو یا اپوزیشن میں نفرت کے سیاست کے خلاف زیرو ٹالیرنس ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر قتل میں ملوث پانچ دہشتگردوں کو ضمانت ملنا میرا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے ۔وہ صرف میری والدہ نہیں بلکہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور بین الاقوامی لیڈر تھیں۔

اس سے ہم دنیا کو کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو حملہ آوروں کے سہولت کار تھے، جنہوں نے داخلی وخارجی راستے دکھائے ، گھر پر ٹھہرایا اور انہیں سہولیات فراہم کیں انہوں نے مانا کہ ہم نے کیا اور ہمیں کوئی افسوس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بھی اس طرح سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہوا جس طرح ضرورت تھی۔موجودہ وزیر داخلہ سے پہلے وزیر داخلہ نے اس طرح سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کیا۔

نیشنل ایکشن پلان پر پورے ملک میں سوفیصد عمل نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے مزار قائد کے سامنے جلسے کا اعلان کیا پھر حکیم سعید گرائونڈ میں کیمپ لگا دیا،،تحریک انصاف والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔پیپلزپارٹی نے حکیم سعید گرائونڈ میں جلسے کی باقاعدہ اجازت لے رکھی تھی ،یہ لڑائی کا موقع نہیں تھا، اب بھی کہتا ہوں کہ نفرت کی سیاست نہیں ہونی چاہیے ،،کراچی میں قیام امن کے لئے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔