سندھ ہائی کورٹ نے 14 سالہ بچی سے زیادتی میں ملوث ملزم کی ضمانت مسترد کردی

جمعرات مئی 18:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے 14 سالہ بچی سے زیادتی میں ملوث ملزم کی ضمانت مسترد کردی۔۔ضمانت مسترد ہونے پر ملزم کی فرار ہونے کی کوشش متاثرہ بچی کی ماں نے ناکام بنادی۔متاثرہ لڑکی والدہ نے ملزم کی چپلوں سے درگت بناڈالی۔جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں 14 سالہ بچی سے زیادتی میں ملوث ملزم کی جانب سے دائر درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے مسترد کردی۔۔عدالت نے کی جانب سے ضمانت مسترد کرنے پر ملزم پرویز نے احاطہ عدالت سے بھاگنے کی کوشش جس پر متاثرہ لڑکی کی والدہ نے شورشرابہ کیا۔۔متاثرہ لڑکی والدہ کی جانب سے شورشرابہ کرنے پو احاطہ عدالت میں موجود پولیس نے ملزم کو دھر لیا۔۔۔جس پر متاثرہ لڑکی والدہ نے احاطہ عدالت کے اندر ہی ملزم پرویز کی چپلوں سے خوب درگت بنائی۔

(جاری ہے)

۔۔متاثرہ لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ فیکٹری میں ملازمہ ہیں ملزم پرویز نے اسے پہلے بہن بنایا اور پھر دھوکے اسکی 14 سالہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔۔متاثرہ لڑکی کی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ ملزم نے 4 ماہ تک اسکی جواں سال بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا،، 4 ماہ جب اسے علم ہوا تو ملزم نے اسے دھکمیاں دیں لیکن اس سے دھکمیوں کی پروا کئے بغیر جوہر آباد تھانے میں مقدمہ درج کرایا لیکن ملزم تاحال اسے مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے۔

متعلقہ عنوان :