رمضان المبارک کے قریب آتے ہی مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے،ڈاکٹر محمدا براہیم

ناجائز منافع خورعوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کیلئے کمر کس چکے ہیں، بشیرا حمدماندائی

جمعرات مئی 18:31

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امراء ڈاکٹر محمدا براہیم ، بشیرا حمدماندائی نے کہا کہ رمضان المبارک کے قریب آتے ہی مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے۔ناجائز منافع خور،گرانفروش اور ذخیرہ اندوزعوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لیے کمر کس چکے ہیں۔ایک طرف حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں غیر سنجیدگی کامظاہرہ کررہی ہے تودوسری جانب رہی سہی کسر کمیشن مافیانے پوری کردی ہے۔

حکومت عوام کو حقیقی ریلیف ومہنگائی میں کمی کیلئے عملی اقدامات کریں ٹینٹوں وکالی خیموں کے بجائے حقیقی سستے بازار لگائیں تاجر برادری ودکاندار رمضان المبارک کم منافع اور کارخیر وثواب کی خاطر قیمتوں میں کمی کریں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے قائم کی جانے والی پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی عملاً غیر فعال ہوچکی ہیں۔

(جاری ہے)

اشیا خوردونوش کی طلب ورسد میں مصنوعی قلت پیداکردی گئی ہے تاکہ نرخ بڑھنے پر دکاندار زیادہ منافع کماسکیں۔

یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے پوراسسٹم ہی کرپٹ ہوچکا ہے۔جس کاجہاں بس چلتا ہے وہ عوام کو لوٹنے سے اجتناب نہیں کرتا۔اس لوٹ مار سے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں مقدس تہواروں کے موقع پر خصوصی ڈسکائونٹ دیاجاتاہے،مختلف اقسام کے رعایتی پیکیجزدیئے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیداکی جاسکیںمگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں الٹی گنگابہتی ہے۔

یہاں نرخ کم کرنے کی بجائے حکومتی ذمہ داران کے ساتھ مل کر بڑھائے جاتے ہیں اور پھرناجائز منافع خوری کا سلسلہ شروع کردیاجاتاہے جوکہ رکنے کا نام نہیں لیتا۔ رمضان سے قبل اشیاء ضروریہ کے نرخوں میں ہونے والے اضافے کو پوری قوم مسترد کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بننے والوں کے خلاف فی الفوراقدامات کرے۔

جب تک عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف میسر نہیں ہوگا ان کی زندگی میں خوشحالی نہیں آسکتی۔ موجودہ حکمرانوں کی مایوس کن کارکردگی سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔حکمرانوں نے پانچ برسوں میں عوام کو مہنگائی میں300فیصد تک اضافے کاتحفہ دیا۔۔لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے جھوٹے دعوے کیے،لاقانونیت اور بے روزگاری کے خاتمے کے دعوے اور وعدے کرتے رہے مگرآج تک ایک بھی وعدہ پورانہیں ہوا۔مزدوروں اور سرکاری ملازمین کے گھروں میں چولہاجلنا مشکل ہوگیا ہے۔بے روزگاری انتہاکوپہنچ چکی ہے۔پڑھے لکھے نوجوان دردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔22کروڑ عوام کاحکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔