کراچی ،گھر سے استانی اور طلبہ کی لاشیں ملنے کے معاملے کا مقدمہ پولیس نے سرکار کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا

جمعرات مئی 18:42

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) نارتھ ناظم آباد کوثر نیازی کالونی میں دو روز قبل گھر سے استانی اور طلبہ کی لاشیں ملنے کے معاملے کا مقدمہ پولیس نے سرکار کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرکے اہلخانہ کو شامل تفتیش کرلیا ہے،ابتدائی طور پر واقعہ قتل کے بعد خودکشی ظاہر کیا گیاتھا تاہم پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ دونوں مقتولین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے حیدری کے علاقے نارتھ ناظم میں ہونے والے دوہرے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا،مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا،مقتولہ استانی اور طلبہ کے اہلخانہ کی جانب سے مقدمہ درج نہ کروانے پر پولیس نے مقدمہ درج کیا پویس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر واقعہ غیرت کے نام پر قتل کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے،مقتولین کے اہل خانہ کے بیانات میں تضاد ہے،مقتولین کے اہلخانہ سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

مقتولہ طالب علم رابعہ کی منگنی ہوچکی تھی، جلد شادی ہونے والی تھی، نسیرین اور رابعہ ایک ہی محلے کی رہائشی ہیں مقتولہ نسرین کے پاس پستول کہاں سے آیا اس کی بھی تفتیش جاری ہے،جائے وقوع پر چار گولیاں چلی ہیں،ابتدائی طور پر واقعہ کو نسرین کی جانب سے رابعہ کو قتل کے بعد خودکشی ظاہر کیا گیا تھا،واقعہ رابعہ کے گھر میں ہوا ہے۔رابعہ نسرین کی اچھی دوستی بھی تھی، رابعہ کا تعلق مہمند قبیلے سے جبکہ نسرین افغانی تھی،نسرین اپنے بھائی کی شادی رابعہ سے کروانا چاہتی تھی،دوسرے رشتے سے ناراض رابعہ نے چند روز سے کھانا پینا بند کر دیا تھا۔

نسرین رابعہ کو سمجھانے کے لیے تین روز قبل رابعہ کے گھر آئی جہاں اس نے رابعہ کو قتل کر کے خودکشی کر لی،نسرین کے گھر میں ٹیلی ویژن تک نہیں ہے،دوران تفتیش اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ نسرین کے پاس موبائل فون پکڑا گیا تھا،نسرین کا کہنا تھا کہ موبائل سے صرف رابعہ کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے،لگتا ہے کہ بہانے سے نسرین کو بلا کر نسرین اور رابعہ کو قتل کیا گیا ہے ،مقتولین کے اہلخانہ کا قتل پر مطمین رہنا شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہیلگتا ہے دونوں خاندانوں میں صلح ہوگئی ہے جسکی بنا پر مقدمہ بھی نہیں کرایا جا رہا تھا،جائے وقوع سے ملنے والے پستول کی ملکیت سے بھی دونوں خاندان انکاری ہیں۔