ڈیڈ لائن ختم ، آزادکشمیر میں احتجاج سے توبہ

مسافر کا14مئی سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان

جمعرات مئی 17:30

تتہ پانی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ڈیڈ لائن ختم ، آزادکشمیر میں احتجاج سے توبہ ،مسافر نی14مئی سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان کردیا،تفصیلات کے مطابق حکومت آزادکشمیر اور مظفر آباد انتظامیہ کو تین گدھوں ایک اونٹ سمیت دیگر مال مسروقہ کی کوہالہ پولیس چوکی پر واپسی دی گئی ڈیڈلائن پوری ہونے کے بعدانوکھے احتجاج کرنے میں مشہورآزادکشمیر کے شہری محمود مسافر نے آزادکشمیر حکومت کو لاچار بے بس اور بے اختیار قرار دیکرنیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتا ل کرنے کا اعلان کردیا،میڈیا سے گفتگو کے دوران محمود مسافر نے کہا کہ میری جدوجہد طویل ہے، 1993ء میں قانون ساز اسمبلی ہاسٹل میں آزادحکومت کے محکمہ امور حیوانات کے ذریعے ڈیری گوٹ فش فارم سے متعلق خبر پڑھی ،ڈیری فارم کے کاروبار کی طرف رغبت ہوئی،اسی دوران تھرمل بجلی پیدا کرکے خود کفالت کا بھی خیال آیا،25سال مسلسل حکومت کے ارباب اختیار کے دفاتر کے چکر لگائے،25سال ضائع کرنے کے بعد بھی ارباب اختیار کو میری بات سمجھ نہ آئی،درجنوں بار بھوک ہڑتالیں کیں،900سے زائد کومیٹرپیدل سفر کیا،اب آزادکشمیر کے 44441مربع میل پر قائم بے اختیار حکومت کے سامنے احتجاج سے توبہ کرلی ہے،اب نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے 14مئی سے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال کروں گا،اگر پاکستان میں بھی میرے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا،تو آگے جانے سے گریز نہیں کروں گا،میرے رب کی زمین وسیع تر ہے،کام کرنے کی نیت ہو تو کوئی کام انسان کے لیے مشکل نہیں،مسافر نے کہا کہ ان کی جدوجہد کی بدولت 1976سے 1996ء تک پڑھائے جانیوالے ممتازمعاشرتی علوم پر آزاد حکومت کی جانب سے پابندی عائد کی گئی، 800صفحات غلط پر مشتمل سیرت کی ایک کتاب پر پنجاب اسمبلی سے پابندی عائد ہوئی، آزادکشمیر کو معاشی بدحالی کی وجہ بنک کاری نظام اورتعلیمی نصاب ہے،اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا،اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی تسلیم کیا،مگر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا،جبکہ حکمران طبقے نے جسٹس سجاد علی شاہ کو گھر بھیج دیا،،میرا آزادکشمیر میں احتجاج واضح کرتا ہے کہآزادکشمیر میںحکومت اور قانون کا کوئی وجود نہیں،حکومت بے اختیار ہے،اگر بااختیار ہوتی تو مجھی25سال بے لگام بیوروکریسی کے دفاتر کے چکر نہ لگانے پر مجبور نہ ہوتا،اب آزادکشمیر میں گڈ گورننس اور آزادکشمیر تاریخ کا جنازہ کہاں دفن ہوتا ہے،آنے والا وقت ہی بتائے گا۔