پاکستان کے چاروں صوبوں میں کشمیریوں کے نام پر مہاجر کالونیوں کی تعمیر اور مفت پلاٹ فراہم کرنے کے نام پر حاصل کی جانیوالے اربوں روپے کے غبن ، لوٹ مار ، اور کرپشن پر اعلیٰ عدالتی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیکر قومی خزانے سے تجوریاں بھرنے والوں کو تاحیات نااہل قرار دیکر ان سے سرکاری رقم واپس لیکر عبرتناک سزائیں دی جائیں

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری ریکارڈ شوکت جاوید کا مطالبہ

جمعرات مئی 17:30

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری ریکارڈ شوکت جاوید نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں کشمیریوں کے نام پر مہاجر کالونیوں کی تعمیر اور مفت پلاٹ فراہم کرنے کے نام پر حاصل کی جانیوالے اربوں روپے کے غبن ، لوٹ مار ، اور کرپشن پر اعلیٰ عدالتی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیکر قومی خزانے سے تجوریاں بھرنے والوں کو تاحیات نااہل قرار دیکر ان سے سرکاری رقم واپس لیکر عبرتناک سزائیں دی جائیں ۔

پاکستان میں مہاجرین کی 12ممبران اسمبلی کے حلقوں میں اضافہ بھی ناگزیر ہے اور ان پر انتخاب کے طریقہ کار کی تبدیلی بھی ورنہ آزاد کشمیر میں حق حکمرانی کا تصور چور چور ہوتا رہے گااور ریموٹ کنٹرول نظام سے ہونیوالی بلیک میلنگ براہ راست عوامی مفادات ، قومی وقار ، ریاستی تشخص کو بلڈوز کرتی رہے گی۔

(جاری ہے)

لہذا پاکستان کی 12نشستوں پر اتفاق رائے سے انتخابی رائج نظام میں تبدیلی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس طلب کرکے متفقہ سفارشات کے بعد آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے آئینی ترامیم لائی جائیں جو آنیوالی نسلوں پر سارے سیاست دانوں کا احسان عظیم ہوگا۔

فضول لڑائی لڑنے کے بجائے مفاہمت ، بھائی چارے اور مکالمے سے دنیا میں ملکوں کے درمیان متنازعہ امور طے پا جاتے ہیں ۔ 12نشستوں پر انتخابی طریقہ کار میں تبدیلی سے کون سا آسمان ٹوٹ پڑیگا۔ گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت جاوید نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان پسماندہ علاقوں کی بنیادی انسانی ضروریات پورا کرنے ‘ زیر تعمیر تعلیمی اداروں کی تکمیل ، صحت کی سہولتیں اور سڑکوں کی تعمیر اور تعمیر و ترقی کے نئے میگاپراجیکٹس شروع کرنے کیلئے تمام اضلاع میں پری بجٹ سیمنار منعقد کرنے کی ہدایت جاری کرکے شراکت اقتدار میں عوامی تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بڑا بریک تھرو کریں ۔

وادی لیپہ ٹنل کیلئے بجٹ میں فنڈز اور اس کی تعمیر کیلئے باقاعدہ ماہرین پر مشتمل اتھارٹی کا قیام اور فنی تکنیکی معاونت کیلئے باضابطہ ایک بورڈ تشکیل دیکر اپنے وعدوں اور عوامی مطالبات کو پورا کرکے سردیوں ، گرمیوں میں راستوں کی بندش سے موت کی آغوش میں جانیوالی قیمتی انسانی جانوں کو تحفظ دیکر اسلامی ریاست کے حکمران ہونے کا عملی اقدام کریں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی دور اقتدار میں پہلی بار چوہدری عبدالمجید کی قیادت میں ایوان کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حکومتی ممبران اسمبلی کے مساوی ترقیاتی فنڈز حزب اختلاف کے اراکین کو فراہم کرکے ان کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کی جمہوریت روایت کی بنیاد رکھی ۔ مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ممبران قانون ساز اسمبلی کو بھی ان کے حلقوں میں کشمیریوں کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے فنڈز مہیا کئے ۔

انہوں نے کہا آزاد کشمیر میں مثالی ، جمہوری روایات زندہ ہیںاور ان کو اسی آب و تاب سے جاری رکھنے کیلئے سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان آزاد کشمیر میں جماعتی بنیادوں پر اگر 25سال کے بعد بلدیاتی انتخابات کروانے اور طلباء یونین پر عائد پابندیاں ختم کرکے ضابطہ اخلاق مرتب کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ ان کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتی رہے گی البتہ وہ خوش بخت سیاستدان اور حکمران ہیں جنہیں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں کسی سخت گیر اپوزیشن کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا اور ابھی تک متحدہ اپوزیشن بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے باقی حکومتی بلنڈرز کو عوامی عدالت میں لانا تو دور کی بات ہے وہ ابھی تک گرینڈ اپوزیشن الائنس بھی تشکیل نہیں دے سکے اس کی وجوہات واقفان حال جو بیان کرتے ہیں ان میں کافی حد تک حقائق کے عنصر بھی پائے جاتے ہیں ۔

شوکت جاوید نے کہا آزاد کشمیر حکومت کے پاس 12ارب روپے اضافی بجٹ وفاقی حکومت نے دیا تھا لیکن ستم بالائے ستم کہ ان میں سے 4ارب روپے ہی خرچ کئے جاسکے اور 8ارب روپے 60دنوں تقسیم کرنے کا ٹارگٹ دنیا جانتی ہے کہ کس طرح پورا ہوگااور اس قومی غفلت کے مرتکب افراد کیخلاف سپیشل پاور ایکٹ کے ذریعہ کارروائی کرکے آئندہ کیلئے ایک مثال قائم کردی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی طرف سے سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کو کنٹرول کرنے کیلئے سائبر کرائمز کے مطابق کنٹرولنگ اتھارٹی بنانے کی تجاویز کو پوری قوم نے خراج تحسین پیش کیا ہے اور اس کیلئے جلد از جلد قانون سازی کرکے ریاستی روایات کو تحفظ دیا جائے اور اس کیلئے سوشل میڈیا ایکسپرٹس پر مشتمل ایک الگ سے باقاعدہ ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو نہ صرف بے راہ روی پر نظر رکھے بلکہ سائنسی تحقیقی ، علمی ،دینی معلومات کی فراہمی کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرسکے تاکہ منفی کے بجائے مثبت رویوںکو پروان چڑھا کر ایک باوقار معاشرے کی تشکیل نو ممکن ہوسکے ۔