چین کی نشاة ثانیہ کا محور مارکسزم ہے ،کارل مارکس نے ملکی سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کئے

عظیم تاریخ ساز مفکر کے سیاسی تجزیے اب بھی رخشندہ و تابندہ ہیں ،200ویں سالگرہ کے موقع پر بھرپور خراج عقیدت

جمعرات مئی 17:30

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) چین کی تاریخ میں شاز ہی کسی غیر ملکی سکالر نے ملک کے سیاسی منظر نامے پر اتنا زبردست اثر مرتب کیا ہو ،جتنا کہ کارل مارکس نے، اس مفکر نے تاریخ بالخصوص سیاسی معیشت کے تاریخ ساز تجزیے کئے وہ اب بھی موجودہ دور میں رخشندہ و تابندہ ہیں ، اس کی بدولت دنیا کے انتہائی آبادی والے ملک کو عروج حاصل ہو ا ہے ،گذشتہ ہفتے کارل مارکس کی 200ویں سالگرہ منانے کیلئے بیجنگ میں منعقدہ عظیم و شان اجتماع کے دوران چین کے صدر شی جن پھنگ نے جو کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں مارکسزم سے چین کی پاسداری کا اعادہ کیا ، اور یہ ثابت کر دیا کہ 135سال قبل انتقال کرنے والا شخص کی اب بھی نمایاں اہمیت ہو سکتی ہے ، چین میں کارل مارکس کی 200ویں سالگرہ منانے کیلئے متعدد تقریبات کا انعقاد کیا گیا چین کی طرف سے عطیہ کیا جانے والا کارل مارکس کا مجسمہ ان کے آبائی شہر ٹرائر ،،جرمنی میں نصب کیا گیا جبکہ ان کی متعدد تخلیقات کو چینی کارئین کیلئے مرتب اور ترجمہ کیا گیا ہے ۔

(جاری ہے)

چین کے صدر شی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارل مارکس کی زبردست تبدیلی اس امر کا آہنی ثبوت ہے کہ صرف سوشل از م کے ذریعے ہی چین کو بچایا جا سکتا ہے ۔ اصلاحات اور کھلے پن کے بعد سے سی پی سی نے چین کی اصلاحات اور کھلے پن کی حقیقت کے ساتھ مارکسزم کے بنیادی اصولوں کو شامل کیا ہے اور جو قوم اٹھ کھڑی ہوئی ہے وہ مالدار بن گئی ہے ۔

متعلقہ عنوان :