اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے ترقیاتی کام ، تبادلوں اور بھرتیوں پر پابندی کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا

جمعرات مئی 17:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے جانب سے ترقیاتی کام ، تبادلو اور بھرتیوں پر پابندی کے حوالے سے جاری نوٹیفکشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔جمعرات کو عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے وفاق اور چاروں صوبوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے 11 اپریل کے نوٹیفیکیشن کے خلاف دائر درخوستوں پر سماعت کی ۔

سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے 11 اپریل کو ترقیاتی کام اور بھرتیوں پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا، الیکشن کمیشن کا یہ اقدام غیر قانونی ہے ،،الیکشن کمیشن نے حکومت کرنے کے 2 ماہ کے اختیارات ختم کر دیئے،،الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد اس طرح کا نوٹیفیکیشن جاری کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن گورنمنٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا،،الیکشن کمیشن کا کام صاف وشفاف الیکشن کرانا ہے، الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ملازمین کی تقرری اور تبادلوں پر پابندی عائد کرسکتا ہے،،الیکشن کمیشن کا 11 اپریل کا نوٹیفیکیشن ضمنی الیکشن کے لئے موزوں ہے تاکہ کوئی الیکشن پر اثر انداز نہ ہو۔

(جاری ہے)

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعدالیکشن کمیشن کے 11 اپریل کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے دیا۔