بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو کھلی چھوٹ۔۔۔

بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو جیل بھیجنے کی بجائے اصلاحی مرکز بھیجا جائے گا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات مئی 17:36

بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو کھلی چھوٹ۔۔۔
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10مئی 2018ء)  بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو  جیل بھیجنے کی بجائے چار ماہ کئے لیے اصلاحی مرکز بھجنے والا قانون درست نہیں۔ قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کی خصوصی عدالت کے جج اختر بھنگو نے آٹھ سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے نئے قوانین کے تحت مقدمہ کا پہلا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نے مقدمہ کے ملزمان فرقان کو جیل بھیجنے کی بجائے چار ماہ کئے لیے اصلاحی مرکز فیصل آباد بھجوانے اور 50ہزار روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا ہے۔جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم فرقان کو مزید ایک ماہ اصلاحی مرکز میں رکھا جائے گا۔ملزم کے خلاف تھانہ سبزہ زار پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا تھا۔قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بچوں کی خصوصی عدالت کے فیصلے پرلوگوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

لوگوں کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالت کو فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئیے۔فیصلہ سے جزا و سزا کا فرق ختم ہو جائے گا۔اور بچوں سے زیادتی کو فروغ ملے گا۔انہوں نے زینب کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد بھی کئی بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔اور بچوں سے زیادتی کے واقعات جاری ہیں۔ملزم فرقان کی طرح اگر ملزمان کو جیل بھیجنے کی بجائے اصلاحی مرکز بھیجا جائے گا۔

تو اس سے جرائم میں اضافہ ہو گا۔اس لیے عدالت کے معززجج کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ملزم کو سخت سزا دیتے ہوئے جیل بھیجنا چاہئیے۔تا کہ آئیندہ کسی کی جرات نہ ہو کہ وہ بچوں کے ساتھ زیادتی کر سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ضیاءالحق کے دور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو تین بار پھانسی پر لٹکایا جاتا تو اس وقت اس طرح کےو اقعات میں 90 فیصد کمی آئی تھی۔