سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی دو روزہ پہلی عالمی کانفرنس شروع ہوگئی

جمعرات مئی 17:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ کامرس کے تحت مینجمنٹ، بزنس اور لیڈرشپ کے عنوان سے ہونے والی پہلی عالمی کانفرس کا آغاز آج سے مقامی ہوٹل میں ہوگیا۔ دوروزہ کانفرنس کا افتتاح وائس چانسلر سندھ مدرسہ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی شیخ نے کیا۔ اس کانفرنس کا موضوع’’ جامعات اور صنعت-‘‘ کا اشتراک ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے کہا کہ جامعات اور صنعتیں مل کر کام کر عام لوگوں کے سماجی ، معاشی، صحت، تعلیم ، صنفی تفریق اور دیگر اہم موضوعات پر تحقیق کریں۔ خاص طور پراہم موضوعات پر تحقیق کرکے پسماندہ طبقے کی خدمت کریں۔غربت اور بے روزگاری ہمارے ملک کے دو اہم مسائل ہیں جن کے خاتمے کیلئے جامعات اور صنعتی اداروں کو مل کر کام کرنا چاہئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جامعات عقل اور ذہانت کا مرکز ہوتی ہیں۔ جہاں پر خاص طور پر عام آدمی لوگوں سے جڑے مسائل پر تحقیق کرکے ان کا حل پیش کریں۔ ہمارے مضافاتی علاقوں میں خواتین اکثر کرکے کئی کئی کلومیٹرز دور سے پانی لیکر آتی ہیں۔ ہم ان جیسے مسائل کا آسان اور جدید حل نکال سکتے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی ہمارے ماہرین کو مقامی وسائل استعمال کرکے سستی بجلی پیدا کرنے کا بھی حل نکال سکتیں ہیں۔

وائس چانسلر سندھ مدرسہ یونیورسٹی نے کانفرنس میں شریک دیگر ممالک کے شرکا،ْ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر ان جیسے مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔ جو کہ ساری دنیا میں لوگ برداشت کررہے ہیں۔انہوں نے اس کانفرنس کے منتظمین کے کردار کی بھی تعریف کی جنہوںنے کامیابی کے ساتھ ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔امریکا کی سٹی یونیورسٹی نیویارک کے میڈگرایورس کالج کے اسکول آف بزنس کی ڈین ڈاکٹر جواین رول نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بزنس کی دنیا ایک مختلف دنیا ہے۔

جہاں پر ثقافت ، ہنر، ظابطے اور ضروریات کی خاص ترجیح ہے۔ اس لئے ہمیں ان کے گرد موجود فرق کا حل نکالنا چاہئے تاکہ ہم موجود بہتر مواقع کی مختلف صورتیں دیکھ سکیں۔انہوں نے کہاکہ وہ اس دور میں رہتی ہیں جہاں پر مرد اور خواتین نسلی ، صنفی اور طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کا شکار ہیں۔ لیکن ہمیں بہتر مستقبل کے تحفظ کیلئے کم کرنا چاہئے اور اپنے مستقبل کو نئی شکل دینے کیلئے ہمیں ازسر نو غور و فکر کرنا چاہئے اور نئے راستے تلاش کرنے چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ تعلیم کے ذریعے زندگی کی تبدیلی میں یقین رکھتی ہیں۔ لتھوینیا کی ولنیس یونیورسٹی کی ڈاکٹر ڈالیا اسٹیمکین نے کہا ہے کہ دنیا کی حکومتوں کو اپنے ملک کی پائیدار ترقی کیلئے سماجی ، معاشی اور ماحولیاتی معاملات میں توازن قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پائیدار ترقی کیلئے غربت کا خاتمہ تمام ضروری ہے۔ ڈاکٹر ڈالیا نے مزید کہا کہ ہمیں لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کیساتھ ان کی بہتری کیلئے کام کرنا چاہئے۔

سری لنکا کے انٹرنسک لیڈرشپ اکیڈمی کے ڈاکٹر اسوکا جینا داسا نے کہا کہ ہمارے پاس لیڈرشپ کا کوئی بھی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔اس لیئی2008 میں پوری دنیا میں آنے والے معاشی تباہی اسی وجہ سے آئی۔ جس کی زد میں آکر کئی کمپنیز دیوالیہ پن کا شکار ہوگئیں۔ لیکن اسکے بعد آنے والے دس برسوں میں ہماری لیڈرشپ نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس لئے موجودہ لیڈرشپ 2008 کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔

اس سے قبل سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی فیکلٹی برائے مینجمینٹ ، بزنس ایڈمنسٹریشن اور کامرس کے ڈین ڈاکٹر زاہد علی چنڑ نے آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کی اہمیت و افادیت کے بارے میں شرکا،ْ کو آگاہ کیا۔ آخر میں ڈاکٹر زاہد چنڑ اور شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے انچارج چیئرپرسن ڈاکٹر سبھاش نے سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ کو شیلڈ پیش کی۔ بعد میں مختلف موضوعات پر تین ٹیکنیکل سیشنز منعقد کیئے گئے۔ کانفرنس میں تعلیمی ماہرین اور سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے فیکلٹی اراکین اور طالبعلموں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔