عالمی تحقیقی اداروں کے تحت دنیا بھرمیںجامعات کی درجہ بندی یہاں کی جانے والی تحقیق کی بنیاد پر کی جاتی ہے،ڈاکٹر الطاف حسین

جمعرات مئی 17:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) وفاقی جامعہ اُردو شعبہ کیمیاء کے تحت ’’کامیاب تحقیق کے لئے اہم اقدامات‘‘کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ایس الطاف حسین نے کہا کہ عالمی تحقیقی اداروں کے تحت دنیا بھرمیںجامعات کی درجہ بندی یہاں کی جانے والی تحقیق کی بنیاد پر کی جاتی ہے ہماری کوشش ہوگی کہ جامعہ اردو کی درجہ بندی نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی بہتر ہو۔

انہوں نے کہا کہ طلباء میں تحقیق کے شوق اور جذبے کو ابھارنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں اساتذہ اہم کردار ادا کرتے ہیں کسی بھی جامعہ میں ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو نہ صرف خود تحقیق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے بلکہ اپنے شاگردوں میں بھی جستجو اور تلاش کی خوبیوں کو بیدا کرے۔

(جاری ہے)

جامعہ اردو کے اساتذہ نہایت قابل و باصلاحیت ہیں۔ جامعہ اردو کے زیادہ تر شعبہ جات کے اساتذہ پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل ہیں خصوصاً شعبہ کیمیاء تعریف کا مستحق ہے کیونکہ اسکے تمام اساتذہ نے پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔

جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ کسی بھی تحقیق کے بعد اس کو تحریری شکل میں منتقل کرنا ہوتا ہے اس لئے محقق کے لئے ضروری ہے کہ وہ دیگر صلاحیتوں کے ساتھ اپنی تحقیق کو موثر لفظوں میں ڈھالنے کی صلاحیت کا بھی حامل ہو۔مزید یہ کہ ہر تحقیق کے لئے ٹائم فریم مقرر ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ محقق میں دیگر اسکلز کا ہونا بھی ضروری ہے جیسے کمپیوٹر سوفٹ ویئر کو استعمال کرنا، ٹائپنگ وغیرہ اور تحقیق کیلئے فنڈنگ کا ہونا بھی ضرورت ہے کیونکہ ہر تحقیق میں بے شمار اخراجات ہوتے ہیں جو ہر محقق از خود نہیں کرسکتا ہے۔

تحقیق کا موضوع اس نوعیت کی دیگر تحقیقا ت سے منفرد ہونا چاہیے۔پروگرام میں رئیس کلیہ سائنس ڈاکٹر روبینہ مشتاق، صدر شعبہ کیمیاء ڈاکٹر طلعت محمود، ڈاکٹر عزیز الدین اورڈاکٹر عطیہ نے بھی خطاب کیا۔پروگرام کے اختتام پرڈاکٹر عزیز الدین شیخ نے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ایس الطاف حسین،، پروفیسرڈاکٹر اقبال چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق ،اساتذہ اور طلباء و طالبات کا سیمینار میں شرکت پر شکریہ ادا کیا ۔ مہمانوں کو شیلڈزپیش کی گئیں جبکہ اساتذہ میں سرٹیفکیٹس تقسیم کئے گئے۔