سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول کا حال اور مسقبل کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سمینار ختم ہوگیا

جمعرات مئی 18:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن وازارت خارجہ کے زیر اہتمام ’’سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول کا حال اور مسقبل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سمینار ختم ہوگیا۔سمینار کا مقصد ایکسپورٹ کنٹرول کمیونٹی کے مابین نیٹ ورکنگ کو مظبوط بنانا اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں(ڈبلیو ایم ڈی) اور انکے ڈیلیوری سسٹم کیخلاف علاقائی و بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کیلئے رابطوں کو مستحکم کرنا تھا۔

ماہرین،مختلف ریجنز اور ملکوں سے بین الاقوامی ایکسپورٹ کنٹرول رجیمز،یو این ایس سی آر۔1540کمیٹی،اکیڈیمیا اور انڈسٹری کے نمائندوں نے سمینار میں شرکت کی۔۔نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل متعدد ملکوں کے نمائندے بھی سمینار میں شریک تھے۔

(جاری ہے)

ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرولز میں حالیہ پیشرفت،کمپلائنس،لائسنسنگ اور انفورسمنٹ چیلنجز کے زریعے عملدرآمد کو مستحکم کرنے، اوربین الاقوامی ایکسپورٹ کنٹرول رجیمز کو درپیش چیلنجوں سے متعلق پریزنٹیشن دی۔

دفتر خارجہ کے مطابق سمینار کا انعقاد پاکستان کا اپنے سسٹمز پر اعتماد کا مظہر اور ایکسپورٹ کنٹرولز اور عدم پھیلاو کے مقاصد کو آگے لیجانے میں بین الاقوامی برادری کیساتھ تعمیری رابطوں کے عزم کا عکاس ہے۔سمینار نے پاکستان کے سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرولز اور اس پر عملدرآمد کے بارے میں افہام و تفہیم کا موقد بھی فراہم کیا۔۔پاکستان این ایس جی لسٹس،آئٹمز سپلائی کی صلاحیت رکھتا ہے اور ائی اے ای اے کے زیر نگرانی دیگر ملکوں کو نیوکلیئر سیکورٹی،ایکسپورٹ کنٹرولز اینڈ ریگولیٹری افیئرز میں خدمات فراہم کرنیکی پیشکش کی۔

سمینار میں پاکستان میں توانائی کی قلت اور پر ایٹمی توانائی کے پر امن استعمال کو اجاگر کیا گیا۔اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کثیرالجہتی ایکسپورٹ کنٹرول ریجمیز کی رکنیت غیر امتیازی اور میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیئے۔اس عزم کا اطہار کیا گیا کہ پاکستان علاقائی و بین الاقوامی سلامتی و انسانیت کی سماجی و قاتصادی ترقی کیلئے بین الاقوامی برادری کیساتھ کام کیلئے تیار ہے۔