جمہوری نظام حکومت اسلامی تصور سے متصادم نہیں‘ اسلام کا نظام حکومت شورائی طرز پر ہے یہی جمہوریت کی روح ہے ‘مقررین

بین الاقوامی تحقیقی کونسل برائے مذہبی امور اور ادارہ امن و تعلیم کے زیر اہتمام جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ میں سماجی راہنماوں کا کردار کے عنوان پر ڈائیلاگ فورم کا انعقاد

جمعرات مئی 18:48

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) بین الاقوامی تحقیقی کونسل برائے مذہبی امور اور ادارہ امن و تعلیم کے زیر اہتمام جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ میں سماجی راہنماوں کا کردار کے عنوان پر ڈائیلاگ فورم کا انعقاد گورنمنٹ ائے پی ایس سکول ماڈل ٹاون لاہور میں کیا گیا،جس میں سماجی ومذہبی قائدین نے پاکستان میں جمہوریت پر اعتراضات اور اس کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ڈائیلاگ فورم سے مولانامحمدعاصم مخدوم، پرنسپل گورنمنٹ ائے پی ایس سکول ماڈل ٹاون لاہور رانا عطاء ، ،پروفیسر عاصم عبداللہ خاورمولاناعبدالرب امجد،قاری محمداسلم صدیقی ،مفتی محمدمحسن ،ڈاکٹرعبدالغفاررندھاوا،دیگر نے بھی خطاب کیا، جس میں کل مسالک علماء بورڈ کے مرکزی راہنمامولانامحمدعاصم مخدوم نے اسلام اور جمہوریت کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا اور کہاکہ اسلام جو بنیادی اصول پیش کرتا ہے،،جمہوریت کی بنیادی روح بھی انہیں اصولوں پر استوار ہے اس لئے یہ کسی بھی اسلامی تصور سے باہم متصادم نہیں ہے،اسلام فرد اور معاشرے کواپنی تقدیر کا خود ذمہ دار ٹھہراتاہے، اسلام کا نظام حکومت شورائی طرز پر ہے اور یہی جمہوریت کی روح ہے ، اس لئے لوگوں کو اپنا نظام انتظام چلانے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے،اسلام کی مجوزہ حکومت سماجی معاہدے پر قائم ہوتی ہے،مولانامحمدعاصم مخدوم نے کہاکہ علماء دین کو جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہوگا ۔

(جاری ہے)

مذہبی قائدین تنقیدی فکر کے ذریعے اپنے پیروں کاروں میں سوچنے کی صلاحیت کوپروان چڑھائیں ،اسلامی حکومت کے لئے قرآن وسنت کا پابند ہونا شرط ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ وہاں اسے عام مسلمانوں کا اعتماد حاصل ہو،اور آج کے دورمیں مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کی رائج صورت ووٹ ہے،حکومت کا قیام جبر کی بجائے عوام کی رائے پرہواسلام کی ان تعلیمات سے عوام الناس کوآگاہی کے لئے منبرومحراب کے وارثان علماء دین اور سماجی قائدین کو اپنا کردار ادا کرناہوگاجمہوریت کے پروان چڑھنے سے پرامن معاشرے کی تشکیل وجود میں آئے گی۔