ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے گرینڈ گول میز کانفرنس بلائی جائے ،ْمحمود خان اچکزئی کا موجو دہ صورتحال پر تشویش کا اظہار

عدل صرف نوازشریف کو سزا دینے سے نہیں ہوگا ،ْ کوئی نوازشریف کا ساتھ دے یا نہ دے ،ْ میں ساتھ دیتا رہونگا ،ْ فاٹا میں اصلاحات کے عمل میں مقامی قبائلیوں کی رضامندی ضروری ہے ،ْ آئین کے مطابق 20 کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمان فیصلے کرے گی ،ْاگر الیکشن شفاف نہ ہوئے تو ملک بہت بڑے بحران کا شکار ہو جائے گا ،ْاسمبلی میں اظہار خیال پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے ہم سب کو مل بیٹھنا ہوگا‘ پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کو بھی احترام دیا جائے ،ْمیاں عبد المنان پاکستان کا مستقبل محفوظ صرف ووٹ کے تقدس سے ہی ممکن ہے ،ْافتخار الدین ہم ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دیں گے تو ہم معاشی طور پر آزاد ہوں گے نہ حالات بدلیں گے ،ْ شہر یار آفریدی جب تک ہم گھر کو مضبوط نہیں کریں گے اور اس ایوان سے طاقت نہیں لیں گے تو ایسے ہی ہوگا جیسے آج ہو رہا ہے ،ْاعجاز جاکھرانی بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کے ملزمان کو چھوڑے جانے پر احتجاج اور مذمت کرتا ہوں‘ عدلیہ کو معاملے کو دیکھنا چاہیے ،ْحاجی غلام احمدبلور حکومت بعض سفارتکاروں کو واپس طلبی کی وجوہات سے ایوان کو آگاہ کرے ،ْرہنما تحریک انصاف شیری مزاری 12 اکتوبر 1999ء کے مارشل لاء کو جائز قرار دینے والوں اور پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لایا جائے ،ْکیپٹن صفدر

جمعرات مئی 19:03

ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے گرینڈ گول میز کانفرنس بلائی جائے ،ْمحمود ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے موجوجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے گرینڈ گول میز کانفرنس بلائی جائے ،ْ عدل صرف نوازشریف کو سزا دینے سے نہیں ہوگا ،ْ کوئی نوازشریف کا ساتھ دے یا نہ دے ،ْ میں ساتھ دیتا رہونگا ،ْ فاٹا میں اصلاحات کے عمل میں مقامی قبائلیوں کی رضامندی ضروری ہے ،ْ آئین کے مطابق 20 کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمان فیصلے کرے گی ،ْاگر الیکشن شفاف نہ ہوئے تو ملک بہت بڑے بحران کا شکار ہو جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر بحث جمعرات کو بھی جاری رہی ،ْ (آج) جمعہ کو وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل بجٹ پر بحث سمیٹیں گے۔

(جاری ہے)

جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک تاریخ کے اہم دور سے گزر رہا ہے، ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں اور کدورتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ ملک ہمارا ہے‘ یہ ایک فیڈریشن ہے اور ہم سب نے آئین کے تحت اس ملک کو چلانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدل صرف نواز شریف کو سزا دینے سے نہیں ہوگا، نواز شریف کو تاحیات نااہل کیا گیا ہے کوئی اور ان کا ساتھ دیتا ہے یا نہیں‘ میں ان کا ساتھ دیتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی‘ بلوچستان اور فاٹا کی صورتحال نازک ہے، اس معاملے پر گول میز کانفرنس بلائی جائے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہم سب آئین پر متفق ہوں، ہمیں جرات سے بعض فیصلے کرنے ہوں گے اور عدل کا ایک موثر نظام قائم کرنا ہوگا۔

ہر ادارے کی حدود آئین میں درج ہیں، عدلیہ کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے۔ آئین کہتا ہے کہ 20 کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمان فیصلے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا دوست‘ ہمسایہ‘ سٹریٹجک پارٹنر اور ایک بڑی منڈی ہے۔ افغانستان کے معاملات افغانوں پر چھوڑنا چاہئیں۔ فاٹا میں اصلاحات کے عمل میں وہاں کے مقامی قبائلیوں کی رائے لی جائے۔

انہوں نے تعلیم اور صحت کے لئے بجٹ میں مختص رقوم اور فنڈز میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان انتہائی خطرناک حالات سے گزر رہا ہے، یہ سب جانتے ہوئے بھی ہمارے ملک میں جو نفرتیںبڑھ رہی ہیں یہ پاکستان میں پہلے کبھی نہیں ہوا، ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں اور کدورتیں بڑھ رہی ہیں۔میں کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا، اور ہم سب نے آئین کے تحت اس ملک کو چلانا ہے،یہ ملک جتنا جرنل یا جج کا ہے اتنا ہی میرا ہے، یہ ملک ہمارا ہے، پاکستان رضاکارانہ فیڈریشن ہے، بڑی مشکلات کے بعد ہم نے آئین بنا یا، آئین کی تین قسم کے لوگ سیاستدان، جرنیل اور جج حلف اٹھاتے ہیں، جرنیل اپنے حلف میں کہتا ہے کہ میں کسی سیاسی معاملے میں دخل اندازی نہیں کروں گا۔

انہوںنے کہاکہ آرمی چیف سے کہتا ہوں کہ اپنے ماتحتوں سے کہیں کہ پاکستان کی سیاست میں مداخلت نہ کریں، سیاستدانوں کے ہاتھ نہ مروڑیں، دو نمبر کے لوگوں سے پاکستان کو چلانے کی کوشش نہ کریں، اگر ان حالات میں ملک کو کچھ ہوا تو آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی، امریکہ اسرائیل ایک ہو گئے ہیں اور سعودی عرب بھی اس کا ساتھ دے رہا ہے، ان حالات میں ہم سعودی عرب کا ساتھ دیں گے یا ایران کا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک میں سوسائٹی کو مذہبی بنیادوں پر چارج کیا ہوا ہے، ہمیں جرات سے بعض فیصلے کرنے ہیں، چار قسم کے لوگ ملک میں گڑ بڑ کر سکتے ہیں، اگر جج اپنی حدود سے نکلتاہے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ اس جج کو روکیں، آئین میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہے، کوئی صحافی جو رات کو ٹی وی پر بیٹھ کر غلط بات کرتا ہے تو اسے روکنا ہو گاانہوںنے کہاکہ الیکشن میں مداخلت نہ کی جائے، اگر الیکشن شفاف نہ ہوئے تو ملک بہت بڑے بحران کا شکار ہو جائے گا۔

قومی اسمبلی میں میاں عبدالمنان نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے ہم سب کو مل بیٹھنا ہوگا‘ ہم عدلیہ اور فوج کا احترام کرتے ہیں‘ پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کو بھی احترام دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اصلی اور جینوئن سیاسی جماعتوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہم اپنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں جارہے ہیں اور لوگ ہمارا فیصلہ کریں گے کہ ہم نے عوام کے لئے کچھ کیا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو توڑنے میں ناکامی کے بعد گولی کی زبان میں بات ہو رہی ہے اور وزیر داخلہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو کوئی روک نہیں سکتا‘ وہ مستقبل کی وزیراعظم اور لیڈر ہے۔ انہوں نے بجٹ میں زراعت سمیت کئی شعبوں کے لئے اقدامات کا تفصیل سے ذکر کیا اور کہا کہ ان اقدامات سے ملک میں فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

برآمدات بڑھے گی اور روزگار کے نئے مواقع سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ریکارڈ ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے ‘ ملک میں موٹرویز اور سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے فنڈز میں اضافہ خوش آئند ہے۔ لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ سمیت متعدد منصوبے مکمل یا تکمیل کے قریب ہیں۔

قومی اسمبلی میں افتخار الدین نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں چترال کے لئے اربوں روپے کے منصوبے دیئے‘ کیلاش کے لئے اربوں روپے کے منصوبے کا اعلان کیا جارہا ہے‘ لواری ٹنل کے لئے 99 فیصد فنڈز موجودہ حکومت نے جاری کیے۔ اس بارے سردیوں میں لواری ٹنل سے بلاتعطل آمدورفت جاری رہی یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا۔

چترال سے چار ملکوں تک رسائی ممکن ہے۔ گولن گول کے 32 ارب روپے میں سے 28 ارب روپے اس حکومت نے دیئے۔ چترال پاکستان میں واحد علاقہ ہے جہاں لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔ پاکستان کو چلانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ پاکستان کا مستقبل محفوظ صرف ووٹ کے تقدس سے ہی ممکن ہے۔ 2014ء کے دھرنے کی وجہ سے سی پیک کا منصوبہ تین سال تک التواء کا شکار رہا۔ انجینئرڈ سسٹم کامیاب نہیں ہوئے۔

مئی کے بعد جو لوگ بڑے سیاسی دھماکے کی بات کرتے ہیں تو ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ بلوچستان میں (ن) لیگ اکثریتی پارٹی تھی تاہم ایک سینیٹر نہیں بن سکا۔ سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ کے پی کے میں خود عمران خان نے تسلیم کیا کہ ان کے لوگ بکے‘ اس طرح کی سینٹ آگے کیا کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں بیروزگاری بہت زیادہ ہے‘ حکومت نے موبائل فون کی سروس مہیا کی۔

یونیورسٹی آف چترال بجٹ میں شامل ہے اس کی سی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری لی جائے۔ گرڈ سٹیشن اور ٹرانسمیشن لائن کا پی سی ون کلیئر کرایا جائے اس منصوبے سے پورے چترال کو بجلی ملے گی۔ چترال کے لئے پی آئی اے کی روزانہ کی بنیاد پر پروازیں شروع کی جائیں۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہم بطور مسلمان اور انسان جانور کو بھی خطرہ ہو تو اس کی بھی خیر مانگتے ہیں۔

انہوں نے قرآن حکیم کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر کام صرف اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور زندگی گزارنے کا طریقہ نبی پاکﷺ کی زندگی بطور نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ سود کے بارے میں احکامات واضح ہیں۔ دنیا میں چرچوں پر بے انتہا پیسہ لگایا جاتا ہے جبکہ یہاں مدارس میں زیر تعلیم بچوں کے لئے بھیک مانگی جاتی ہے۔ جب اداروں کے درمیان ٹکرائو ہوگا اور ہم اپنے مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دیں گے تو ہم معاشی طور پر آزاد ہوں گے نہ حالات بدلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 60 فیصد پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت کی وجہ سے نوجوان تنگ آکر مختلف تنظیموں کے آلہ کار بننے کا سوچتے ہیں۔ جب جنسی زیادتیوں اور دیگر معاشرتی برائیوں کے سدباب کے لئے ہم قانون سازی نہیں کریں گے تو دشمن قوتوں کے عزائم کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں ‘ معاشرے کے محروم طبقات اور فاٹا کے لوگوں کی حق تلفی ہوگی تو وہ احساس محرومی کا شکار ہوں گے۔

پاکستان کسی کی ذاتی میراث نہیں ہم سب کا ہے۔ جب عوام کا پیسہ عوام پر نہیں لگے گا تو پھر معاشرتی مسائل بڑھیں گے۔ حصہ لیتے ہوئے اعجاز حسین جاکھرانی نے کہا کہ پوری قوم مایوسی کا شکار ہے، ہمیں یکجہتی کا کہا جاتا ہے، نیب آرڈیننس ختم کرنے کے لئے کہا جاتا ہے‘ ماضی میں ہم نے جب پارلیمنٹ کی بالادستی اور گھر کے فیصلے گھر کے اندر کرنے کی بات کی تو ہماری بات کسی نے نہیں سنی، بڑے دکھ کی بات ہے کہ پارلیمنٹ کمزور ہو رہی ہے، نیب ڈکٹیٹر کا دیا ہوا قانون ہے، اسے ختم ہونا چاہیے‘ اسی طرح ہم نے (1) 62 ایف بھی ختم کرنے کا کہا تھا، مگر ہماری بات کسی نے نہیں سنی، جب تک ہم گھر کو مضبوط نہیں کریں گے اور اس ایوان سے طاقت نہیں لیں گے تو ایسے ہی ہوگا جیسے آج ہو رہا ہے۔

سیاست دان جب تک پارلیمنٹ کو مضبوط نہیں کریں گے تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب سیاستدان مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں گے تو مسائل حل ہوں گے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ موجودہ اسمبلی نے بھی پانچ سال مکمل کرلئے ہیں۔ حکومت کے پاس ایک سال کا بجٹ دینے کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ یہ عوامی امنگوں کا ترجمان بجٹ نہیں ہے، 15 ہزار میں ایک غریب آدمی اپنے گھر کا بجٹ کیسے بنا سکتا ہے۔

کم سے کم اجرت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ صوبوں کو نیا این ایف سی ایوارڈ نہ دینا افسوسناک ہے۔ پی ایس ڈی پی میں رقوم چاروں صوبوں کے لئے منصفانہ طور پر مختص کی جائیں۔ حاجی غلام احمد بلور نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کے ملزمان کو چھوڑے جانے پر احتجاج اور اس کی مذمت کرتا ہوں‘ عدلیہ کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے بجٹ اور حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اقتصادی ترقی کا اندازہ ڈالر کی قدر میں اضافہ سے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قرضوں کے حصول اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم سے کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے۔ بناسپتی گھی کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ غریب لوگوں کو فائدہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے روزانہ 57 ہزار بیرل خام تیل نکالا جارہا ہے مگر ریفائنری پنجاب میں بنائی گئی ہے۔ صوبہ میں بیروزگاری کی شرح زیادہ ہے اور لاکھوں کی تعداد میں پختون مشرق وسطیٰ اور بلوچستان میں کوئلوں کی کانوں میں مزدوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے اور سی پیک کے منصوبوں سے یکساں استفادہ اور فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

حاجی غلام احمد بلور نے اپنی تقریر میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ نواب یوسف تالپور نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وہ گزشتہ آٹھ نو ماہ سے سندھ کے اس کے حصے کے پانی کی فراہمی کا معاملہ اٹھا رہے ہیں لیکن 1991ء کے واٹر اکارڈ کے تحت صوبہ کو پانی نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سندھ میں احتجاج ہو رہا ہے اور لوگ سڑکوں پر آرہے ہیں۔

ہمارے پاس انسانوں اور جانوروں کے لئے پینے کا پانی نہیں مل رہا ہے۔ 16 تاریخ کو حیدرآباد میں احتجاج ہوگا اور ہم تمام پارٹیوں کو اس میں مدعو کرتے ہیں۔نکتہ اعتراض پر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ عالمی سٹریٹجک صورتحال بہت نازک ہے۔ امریکا عالمی معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ ہمارے بعض سفارتکاروں کی مدت ابھی باقی ہے مگر ان کو واپس کیوں طلب کیا جارہا ہے اس سے سفارتی سطح پر عدم استحکام ہوگا۔

ایوان کو اس کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے۔ نکتہ اعتراض پر خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ میں پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ حکومت اس پر ایمرجنسی لگائے۔ ارسا کا فوری اجلاس بلایا جائے۔ ہو سکتا ہے اس پر احتجاج کرنا پڑے۔ سپیکر نے کہا کہ وزیر آبی وسائل کو بلایا جائے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ شیخ آفتاب کی میری طرح کوئی نہیں سنتا پارلیمنٹ بے بس ہے۔

حکومت نے اس پارلیمنٹ کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہیے۔ نکتہ اعتراض پر سابق سپیکر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں، کیا اس ایوان میں بیٹھے لوگوں کو اس طاقت کا کوئی خیال ہے۔ وسائل کی تقسیم منصفانہ نہیں ہے، این ایف سی ایوارڈ نہیں ہو سکا، لوئر سندھ میں پانی و بجلی نہیں ہے اور یہ بڑا چیلنج ہے۔ ملک میں پانی کی مساوی تقسیم سے ہی ہم آہنگی لائی جاسکتی ہے۔

اپر سندھ میں پانی کی اتنی کمی نہیں جتنی لوئر سندھ میں ہے۔ صوبے کی سطح پر ہی ناانصافی ہو رہی ہے۔ کوٹری تک پانچ ہزار کیوسک پانی پہنچ رہا ہے۔ اپر سندھ میں پانی زمینوں کے لئے دستیاب ہے لیکن لوئر سندھ میں پینے کے لئے پانی دستیاب نہیں ہے اس کی ذمہ داری وفاق کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پر بھی ہے۔ انہوں نے سپیکر‘ قائد ایوان‘ قائد حزب اختلاف‘ قومی اسمبلی اور بدین کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں منتخب کیا۔

بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ دختر مشرق اور دو بار وزیراعظم رہنے والی بے نظیر بھٹو کی شہادت پر کرائم سین دھو دیا گیا۔ ان کا پوسٹ مارٹم نہیں کرنے دیا گیا، بے نظیر کے قتل کے نامزد ملزموں کو رہا کردیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے تمام وزراء اعظم برطرف ہوئے یا عدالتوں سے نکالا گیا یا پھانسی دی گئی۔ یہ تاریخ اچھی نہیں ہے۔

17 سال قید کی سزا پانے والے دو ایس ایس پیز کو رہائی پر پوسٹنگ کیسے ملی۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ بجٹ میں ایک انڈسٹری کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ سی پیک اہم منصوبہ اور گیم چینجر منصوبہ ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب ڈالر ہیں۔ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کم ہیں۔ سی پیک پر نظرثانی کی جائے اور مقامی کمپنیوں کو بھی مساوی مواقع دیئے جائیں۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ اگر گزشتہ پانچ سالوں کے دوران میری تقریر یا بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر شہید حق کی راہ پر تھیں‘ عوام کی جنگ لڑ رہی تھیں‘ ان کے قاتلوں کی ضمانت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس ایوان کا جو بھی شخص وزیراعظم رہا ہے وہ ہمارے لئے قابل قدر ہے۔ قائد حزب اختلاف بھی ہمارے لئے قابل احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے نامساعد حالات میں چھ بجٹ منظور کئے، کبھی دھرنے تھے اور کبھی کچھ اور، ہمیں آج فیصلہ کرکے جانا چاہیے کہ پارلیمنٹ اس ملک کا بالادست ادارہ ہوگا۔

جسٹس سعید الزمان مرحوم اور جسٹس اعجاز افضل سمیت وہ تمام جج قابل احترام ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔ جسٹس منیر کے فیصلے نے ایوب خان کے مارشل لاء کو جائز قرار دیا اور ان کے فیصلوں سے ملک دولخت ہوا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آنے والے وقت میں یہ پارلیمنٹ اتنی مضبوط ہوگی جو پرویز مشرف کو وطن واپس لائے گی۔ پارلیمنٹ سب سے کمزور ادارہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999ء کے مارشل لاء کو جائز قرار دینے والوں اور پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لایا جائے۔ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کیپٹن (ر) صفدر کی تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے رولنگ دی کہ آئین کے آرٹیکل 68 کے تحت ایوان میں ججوں کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی۔ کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ اس ایوان کی قائمہ کمیٹیوں کے فیصلوں کو قانون سازی کے ذریعے فوقیت دی جائے۔

ہمیں اس عہد کے ساتھ اس ایوان سے جانا ہوگا کہ ہم آپس کے لڑائی جھگڑوں سے اجتناب کریں گے۔قومی اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے رکن قاری محمد یوسف نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ترکی ہم سے آگے نکل گیا ہے۔ پاکستان کا عالم اسلام کے مسائل پر ردعمل سب سے پہلے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو سود سے پاک کیا جانا چاہیے۔ بجٹ میں مدارس کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ سودی نظام کے خاتمے کے لئے اس میں کچھ نہیں کیا گیا۔ کوہستان کی آبادی ایک تحصیل کے برابر بھی نہیں ہے تاہم بٹ گرام کے بعض علاقے اس میں شامل کرکے صوبائی حکومت نے کوہستان کو ضلع بنا دیا ہے یہ زیادتی ہے اس کا وفاق نوٹس لے۔