پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے ،ْ ہر ادارے کو آئینی حدود میں رہ کر کام کر ناچاہیے ،ْمسلم لیگ (ن)

ہزارہ کے عوام نے صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،ْسب سے پہلے صوبہ ہزارہ بننا چاہیے ،ْ‘ نیب سمیت تمام ادارے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں ،ْ نیب سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں پر قائم مقدمات ختم کر رہا ہے ،ْعابد شیر علی ،ْ کیپٹن صفدر ،ْ روحیل اصغر ،ْ میاں عبد المنان ،ْ رانا محمد افضل کی گفتگو

جمعرات مئی 19:03

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)اور وزراء نے کہاہے کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے ،ْ ہر ادارے کو آئینی حدود میں رہ کر کام کر ناچاہیے ،ْہزارہ کے عوام نے صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،ْسب سے پہلے صوبہ ہزارہ بننا چاہیے ،ْ‘ نیب سمیت تمام ادارے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں ،ْ نیب سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں پر قائم مقدمات ختم کر رہا ہے ۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روحیل اصغر نے کہا کہ اختیارات سے تجاوز کے اعتراف کے باوجود پرویز مشرف کوکسی نے طلب نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک نئے تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا ،ْپارلیمنٹ ایک بالادست ادارہ ہے ہر ادارے کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

اگر ادارے صحیح سمت میں کام کرتے تو ملک ترقی کرتا‘ جمہوریت پروان چڑھتی ادارے بھی مضبوط ہوتے۔

وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے اراکین قومی اسمبلی نے پانچ سالوں کے دوران صوبہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے قومی اسمبلی کے فلور پر ایک لفظ تک نہیں بولا‘ قرارداد لانا تو دور کی بات ہے وہ پانچ سال حکومت میں گزارنے کے بعد اب مسلم لیگ سے علیحدہ رہے ہیں وہ کس منہ سے جنوبی پنجاب صوبہ کی بات کر رہے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ہزارہ کے عوام نے صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تو پھر سب سے پہلے صوبہ ہزارہ بننا چاہیے۔

وہاں کے لوگوں نے اس حوالے سے جدوجہد کی ہے جو سب کے سامنے ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے‘ نیب سمیت تمام ادارے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں‘ سابق وزیر اعظم پر بھاری رقوم بھارت بھجوانے کے الزام کے حوالے سے نیب کے اقدام کی ہمارے مخالفین سمیت پورے ملک کے عوام نے اس کی مذمت کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی میاں عبدالمنان نے کہا کہ چیئرمین نیب پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں‘ انہیں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خلاف بھارت رقوم بھجوانے سے متعلق الزام کی وضاحت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کبھی کہتے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات چرائے گئے‘ کبھی عدلیہ اور آر اوز پر الزام لگاتے ہیں‘ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ اسمبلی کے فلور پر اس معاملہ پر اپنا واضح بیان دے چکا ہوں۔ بڑے سے بڑے ادارے پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہیں اس لئے پارلیمنٹ جسے بلائے اسے آنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لیکن لوگ مزارات پر روحانی تسکین اور اصلاح کے لئے جاتے ہیں، سیاسی مقصد کے لئے نہیں جاتے۔وزیر مملکت میری ٹائم افیئرزچوہدر ی جعفر اقبال نے کہا کہ صوبہ سندھ میں نیب بڑی تیزی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں پر قائم مقدمات ختم کر رہا ہے۔وہاں پر بھی قومی دولت کو بے دردی سے لوٹا گیا ہے۔ وہاں نیب اتنی مہربان کیوں ہے اور میڈیا کی خاموشی معنی خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خلاف نیب کے الزام بار ے گزشتہ روز ایوان میں جو بیان دیا سب نے ڈیسک بجا کر خیر مقدم کیا ۔تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر پارلیمان کی کمیٹی قائم کی جائے گی جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ چیئرمین نیب بھارت رقوم بھیجنے کے حوالے سے پہلے تحقیقات کرتے‘ اگر اس میں کوئی صداقت ہوتی تو اس حوالے سے وہ پریس کانفرنس کرتے مگر محض خبر پر اس طرح کا نوٹس لینا درست نہیں تھا۔