یونان کا باغیوں کو پناہ دینا ،ترک دلائل کو رد کرناغلط فعل ہے، ابراہیم قالن

بہتر ہے یونان غلطی کا سدھار کر لے،ترکی فیتو کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھے گا،ترجمان ترک صدر

جمعرات مئی 19:29

استنبول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ترک صدر کے ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ یونان نے باغیوں کو پناہ دینے کی غلطی کی ہے،،یونان کا ترک دلائل کو رد کرنا اور سیاسی پناہ دینا انتہائی غلط فعل ہے،بہتر ہے یونان غلطی کا سدھار کر لے،،ترکی فیتو کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کا کہنا ہے کہ یونان کی جانب سے 8 باغیوں میں سے دو کو سیاسی پناہ دینے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔

قالن نے ایوان صدر میں اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دیا۔انہوں نے ایک صحافی کے سوال کہ ""یونان میں فیتو کے کارندوں سے متعلق عدالتی کاروائی جاری ہے ، شعبہ مہاجرین نے مزید ایک باغی ترک فوجی کو سیاسی پناہ دے دی ہے، آپ اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گی" کے جواب میں کہا کہ ہر کس جانتا ہے کہ یہ 8 باغی جمہوریہ ترکی کے دو ہیلی کاپٹروں کو غیر قانونی طریقے سے یونان لے گئے تھے۔

(جاری ہے)

یہ باغی صدر ِ ترکی کے خلاف قاتلانہ حملے کے لیے ضلع مارمرس کو گئے تھے۔ ہم نے اس حوالے سے تمام تر دلائل کو یونان اداروں کے حوالے کر رکھا ہے۔ اس کے باجود ان کو سیاسی پناہ دیا جانا ایک انتہائی غلط فعل ہے۔ ہم نے بار ہا یونانی حکومت سے حقانیت سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔باغیوں کو یورپی یونین کے ایک ملک میں کھل کھلا حرکت کرنے کی اجازت دینے پر رد عمل کا مظاہرہ کرنے والے قالن نے کہا کہ "یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم اس چیز پر بلا رد عمل کے رہیں۔

"انہوں نے مزید بتایا کہ باغیوں کو سیاسی پناہ دینا قانونی طور پر ایک اسکینڈل ہے، یہ فیصلہ ہمارے باہمی تعلقات کو ٹھیس پہنچائے گا۔لہذا ہم حکومت یونان اور اس کے اداروں سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس غلطی سے پیچھے ہٹ جائیں، لیکن ان کا مؤقف جو بھی ہو ترکی فیتو کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھے گا۔