مرکزی سیرت کمیٹی کا 3 رمضان المبارک کو’’ یوم سیدہ فاطمة الزھراؓ و شہداء زلزلہ‘‘ منانے کا فیصلہ

اسلامی نظریاتی کونسل کو فعال بناکر دینی شعائراوراسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کو مذیدموثربنایاجائے،ریاست بھر میں اذان، نماز ،سحروافطار کے اوقات کا تعین اور عملدرآمد یقینی بنایاجائے معصوم بچیوں‘خواتین کے ساتھ ظلم و ذیادتی جیسے واقعات کی روک تھام اور سدباب کیلئے موثرقانون سازی ‘ماہ صیام میں گرانفروشی و ذخیرہ اندوزی کے خاتمہ کیلئے انتظامیہ کو متحرک کیا جائے

جمعرات مئی 19:32

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) مرکزی سیرت کمیٹی کا3رمضان المبارک کو’’ یوم سیدہ فاطمة الزھراؓ و شہداء زلزلہ‘‘ منانے کا فیصلہ، اسلامی نظریاتی کونسل کو فعال بناکر دینی شعائراوراسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کو مذیدموثربنایاجائے،ریاست بھر میں اذان، نماز ،سحروافطار کے اوقات کا تعین اور عملدرآمد یقینی بنایاجائے‘معصوم بچیوں‘خواتین کے ساتھ ظلم و ذیادتی جیسے واقعات کی روک تھام اور سدباب کیلئے موثرقانون سازی کرکے فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے،ماہ صیام میں گرانفروشی و ذخیرہ اندوزی کے خاتمہ کیلئے انتظامیہ کو متحرک کیا جائے،نیشنل ایکشن پلان کو محض مساجد اور دینی اجتماعات میں لائوڈ سپیکر کی پابندی تک محدودرکھنے کی بجائے بلاتفریق اطلاق کیاجائے،یہ مطالبات مرکزی سیرت کمیٹی کی مجلس انتظامیہ کے ایک اہم اجلاس میں متفقہ قراردادوں کے زریعے کئے گئے،اجلاس کی صدارت صدر مرکزی سیرت کمیٹی صاحبزادہ پیرمحمد سلیم چشتی نے کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں سیکرٹری جنرل عتیق احمدرضا،علامہ محمدپرویزقریشی،علامہ محمدحسن حقانی،علامہ قاری ضیاء المصطفیٰ منور،میاں محمدعتیق جھاگوی،راجہ کوکب سلیم چشتی ایڈووکیٹ، اظہرحسین اعوان،فیصل جمیل کشمیری،محمدسفیررضا نے شرکت کی جبکہ اجلاس کے اختتامی مرحلہ میں مرکزی سیرت کمیٹی کی مجلس مشاورت کے ارا کین پیرسیدنیازگیلانی، خادم حسین قریشی، واجد شاکربھی بطورمبصر شریک ہوئے۔

اجلاس میں آمدہ ماہ ِ صیام کے حوالہ سے مرکزی سیرت کمیٹی کے زیرانتظام مساجد میں نماز تراویح کے انعقاد،علماء کرام، حفاظ کرام ،قراء حضرات کی تعیناتی ،زیرتعمیر مساجد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی سیرت کمیٹی حسب سابق 3رمضان المبارک کو سیدہ ئِ کائینات حضرت سیدہ فاطمة الزھرا ؓکے یوم وصال اورشہداء زلزلہ کے ایصال ثواب و بلندی درجات کیلئے تقریب و افطار ی کا اہتمام کرے گی،تقریب میں نمازظہر کے بعد قرآن خوانی،نمازعصر کے بعد محفل میلادالنبیؐ اور علماء کرام کا خطاب ہوگا اور وقت افطاراجتماعی دعا کی جائے گی، اس تقریب میں وزیراعظم آزادکشمیر سمیت اہم شخصیات کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

مرکزی سیرت کمیٹی نے یوم شہداء زلزلہ کی مناسبت سے اپنے گھروں میں انفرادی طور پر دعائیہ تقریبات کرنے والے شہریوں سے کہاہے کہ وہ اس اجتماعی تقریب میں شامل ہوں ۔اجلاس میں مختلف قراردادیں بھی پیش کی گئیں جن میں مقبوضہ کشمیر،، فلسطین،،،برما،، عراق،،،افغانستان،، شام ودیگر ممالک میں مسلمانوں پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، مقبوضہ کشمیر میں حالیہ جبر تشدد کی تازہ لہر میں پے درپے شہادتوں پر گہرے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے ایسے سانحات کو اقوام متحدہ،، عالمی انسانی حقوق کے علمبرداراداروں اور عالمی امن کیلئے چیلنج قراردیا گیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہوئے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جائے۔

اجلاس میںحلقہ 4کے نواحی علاقہ کٹکیر میں ایک معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ ایسی قانون سازی کرے جس سے ایسے قبیح واقعات کی روک تھام اور سد باب کیا جاسکے اور معاشرے میں سدھار لایا جاسکے۔