پارلیمان کا نظام آمریت کے نیچے اج بھی جکڑا ہوا ہے، ریاست اور اس کے نظام کو غلام بنایا جا رہا ہے، کیپٹن (ر) صفدر

اس غلامی سے آزادی کاایک ہی طریقہ ہے کہ پرویز مشرف کو بلائیں اور سزا دیں تاکہ آئندہ کوئینظام کو غلام بنانے کی جرات نہ کر سکے ،کیا پارلیمان اتنا مضبوط ہو گا کہ مشرف کو واپس لائے گا،‘ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو سلام پیش کرتے ہیں، راتوں کوکیوں جا کر لوگ ججوں کو ملتے ہیں کون خلائی مخلوق ملتی ہے رہنما مسلم لیگ (ن) اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

جمعرات مئی 19:50

پارلیمان کا نظام آمریت کے نیچے اج بھی جکڑا ہوا ہے، ریاست اور اس کے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے رہنماء کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہے کہ پارلیمان کا نظام آمریت کے نیچے آج بھی جکڑا ہوا ہے، ریاست اور اس کے نظام کو غلام بنایا جا رہا ہے، اس غلامی سے آزادی کاایک ہی طریقہ ہے کہ پرویز مشرف کو بلائیں اور سزا دیں تاکہ آئیندہ کوئی جرات نہ کر سکے کہ اس نظام کو غلام بنا سکے، کیا پارلیمان اتنا مضبوط ہو گا کہ مشرف کو واپس لائے گا،‘ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو سلام پیش کرتے ہیں، راتوں کوکیوں جا کر لوگ ججوں کو ملتے ہیں کون خلائی مخلوق ملتی ہے، ان خیالات کا اظہار وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران کر رہے تھے ۔

کیپٹن(ر)صفدر نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں، بے نظیر کی شہادت ہوئی وہ عوام کی جنگ لڑ رہی تھیں، تمام وزرائے اعظم نے عوام کیلئے بات کی ہے، ہر وزیراعظم قابل قدر ہے، تمام لوگوں نے مل کر پاکستان کو چلانا ہے ، انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے مستقبل پر سوالیہ نشان چھوڑ کر جارہا ہوں، انہوں نے جسٹس (ر)سعید الزمان صدیقی نے آئین کا حلف اٹھایا ہوا تھا، جسٹس اعجاز افضل نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا ، جسٹس منیر کے غلط فیصلوں نے پاکستان کو دولخت کیا، کیا پارلیمان اتنا مضبوط ہو گا کہ مشرف کو واپس لائے گا، ہم کہتے ہیں سب سے سپریم ادارہ پارلیمنٹ ہے ، میں کہتا ہوں سب سے کمزور ادارہ ہے، چیف جسٹس پشاور میں بشیر بلور کے گھر چلے جاتے، اے این پی کے جنرل سیکرٹری کے گھر چلے جاتے، پشاور سکول جا کر فاتحہ کرلیتے۔

(جاری ہے)

پارلیمان کا نظام آمریت کے نیچے آج بھی جکڑا ہوا ہے۔کیپٹن(ر) صفدر نے کہا کہ ریاست اور اس کے نظام کو غلام بنایا جا رہا ہے، اس غلامی سے آزادی کاایک ہی طریقہ ہے کہ پرویز مشرف کو بلائیں اور اس کو سزا دیں تاکہ آئیندہ کوئی جرات نہ کر سکے کہ اس نظام کو غلام بنا سکے، راتوں کوکیوں جا کر لوگ ججوں کو ملتے ہیں کون خلائی مخلوق ملتی ہے، کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ یہ دیوار28جولائی کے بعد بنا رہے ہیں بھونچال اس کو گرا کر رکھ دے گا، میثاق جمہوریت کا مقصد تھا کہ آئو آئین کی بات کریں ، مشرف پر کیوں نہیں مقدمہ چل رہا، قوم فیصلہ کر چکی ہے کہ ووٹ کو عزت دو کا الیکشن ہے، ہمارے ہاتھ خلائی مخلوق نے باندھے ہوتے ہیں۔