سعودی عرب،یمنی مہاجریں کیخلاف کریک ڈائون شروع ،رواں برس 17 ہزار یمنی مہاجرین کی ملک بدری

یمنی حالات مخدوش، سعودی اقدام سے شورش میں اضافہ متوقع، مہاجرین کی واپسی نیا انسانی بحران کا پیش خیمہ،امن بحالی تک واپسی نقصان دہ ہو گی، اقوام متحدہ

جمعرات مئی 19:55

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سعودی عرب میں یمنی مہاجریں کے خلاف کریک ڈائون شروع کر دیا گیا،،سعودی عرب نے رواں برس 17 ہزار یمنی مہاجرین کو ملک بدر کر دیا،یمنی حالات مخدوش ہیں سعودی اقدام سے شورش میں اضافہ متوقع ہے، مہاجرین کی ملک واپسی نیا انسانی بحران پیدا کر سکتی ہے،،یمن میں امن قائم ہونے تک مہاجرین کی واپسی نقصان دہ ثابت ہو گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب رواں برس 17 ہزار یمنی مہاجرین کو ملک بدر کر چکا ہے۔ خدشہ ہے کہ ریاض حکومت سعودی عرب میں موجود سات لاکھ یمنی مہاجرین کو بھی واپس یمن روانہ کر سکتی ہے، یوں ان مہاجرین کی حالات زار مزید ابتر ہو سکتی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب رواں برس تقریبا سترہ ہزار یمنی مہاجرین کو ملک بدر کر چکا ہے۔

(جاری ہے)

یمن کے حالات ابھی تک مخدوش ہیں اور وہاں خانہ جنگی کی وجہ سے شورش بڑھتی جا رہی ہے۔اس صورتحال میں ان مہاجرین کی ملک واپسی سے ایک نیا انسانی بحرانی المیہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب میں موجود سات لاکھ مہاجرین کو بھی واپس جنگ زدہ ملک یمن روانہ کیا جا سکتا ہے۔

آئی او ایم کے مطابق سعودی حکومت نے ایسے یمنی مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جن کے پاس سعودی عرب میں قیام کا قانونی اجازت نامہ نہیں ہے۔ ایسے مہاجرین کو جرمانے، قید اور ڈی پورٹیشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سعودی لیبر مارکیٹ میں غیرقانونی طور پر کام کرنے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے۔اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں بنگلہ دیشی، فلپائن اور ایتھوپیا کے باشندوں کو بھی واپس روانہ کیا جا رہا ہے تاہم آئی او ایم سے وابستہ سینئر اہلکار محمد عبدیکر کا کہنا ہے کہ یمنی مہاجرین کی واپسی ایک پریشان کن بات ہے، ’’ آپ یمن جیسے ممالک کے لوگوں کو ڈی پورٹ نہیں کر سکتے، بالخصوص ایسے حالات میں جب وہاں بمباری جاری ہو۔

‘‘حال ہی میں یمن کا دورہ کرنے والے عبدیکر نے سوال کیا کہ آیا ایسا کوئی راستہ ہے کہ سعودی عرب یمنی مہاجرین کے واپسی کے عمل کو روک دے۔ کم از کم اٴْس وقت تک، جب تک یمن ایک ایسا ملک نہیں بن جاتا جہاں جانا ممکن ہو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں تقریبا سات لاکھ یمنی مہاجر موجود ہیں، جو وہاں کام بھی کر رہے ہیں۔۔سعودی عسکری اتحاد سن دو ہزار پندرہ سے یمن میں فعال ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔

شیعہ حوثی جنگجو دارالحکومت صنعاء کے ساتھ ساتھ اس وقت یمن کے ستر فیصد حصے پر قابض ہیں۔ اس خانہ جنگی کی وجہ سے دس ہزار افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق یمن میں جاری شورش کے باعث تین لاکھ یمنی داخلی طور پر بھی بے گھر ہو چکے ہیں۔