نیب ملک میں کوئی خوف و ہراس نہیں پھیلا رہا ، فیس کو نہیں بلکہ کیس کو دیکھتے ہیں، چیئرمین نیب

ملک میں مزید کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی ،کیا کرپشن کرنے والوں سے سوال پوچھنا جرم ہی ،قومی خزانے کی حفاظت جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے، ہم کسی کی تذلیل نہیں کرتے، قومی خزانے کے محافظوں سے پوچھتے ہیں کہ رقم کیسے خرچ کی، نیب کسی کو ظہرانے یا عشائیے پر نہیں بلاتی، سب سے پہلے باعزت طریقے سے چائے کا پوچھتے ہیں،کرپشن کا خاتمہ ہونے تک عام آدمی کو چین نہیں ملے گا، نیب کی کسی سے دشمنی نہیں، نوٹس قومی ادارے کی جانب سے آپ کی عزت ملحوظ خاطر رکھ کر بھجوایا جاتا ہے ،جن کے ذہن میں ہے کہ ہمیں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا وہ اپنی غلط فہمی دور کرلیں، ان کو کہا بھی جا سکتا ہے، وہ قانون کی گرفت میں بھی آ سکتے ہیں، نیب کا الیکشن او ر سیاست سے کوئی تعلق نہیں چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا نیب پشاور میں منعقدہ تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 20:13

نیب ملک میں کوئی خوف و ہراس نہیں پھیلا رہا ، فیس کو نہیں بلکہ کیس کو ..
پشاور /اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ملک میں کوئی خوف و ہراس نہیں پھیلا رہا فیس کو نہیں بلکہ کیس کو دیکھتے ہیں، ملک میں مزید کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی ،کیا کرپشن کرنے والوں سے سوال پوچھنا جرم ہی ،،قومی خزانے کی حفاظت جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے، ہم کسی کی تذلیل نہیں کرتے، قومی خزانے کے محافظوں سے پوچھتے ہیں کہ رقم کیسے خرچ کی، نیب کسی کو ظہرانے یا عشائیے پر نہیں بلاتی، کسی کی تذلیل نہیں کرتے، سب سے پہلے باعزت طریقے سے چائے کا پوچھتے ہیں،،کرپشن کا خاتمہ ہونے تک عام آدمی کو چین نہیں ملے گا، نیب کی کسی سے دشمنی نہیں، نوٹس قومی ادارے کی جانب سے آپ کی عزت ملحوظ خاطر رکھ کر بھجوایا جاتا ہے جن کے ذہن میں یہ بات موجود ہے کہ ہمیں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہماری طرف نہیں دیکھا جا سکتا وہ اپنی غلط فہمی دور کرلیں اور ان کو کہا بھی جا سکتا ہے وہ قانون کی گرفت میں بھی آ سکتے ہیں، نیب کا الیکشن او ر سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

(جاری ہے)

وہ جمعرات کو نیب پشاور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ کبھی کسی کے فیس کو نہیں بلکہ کیس کو دیکھتے ہیں، نیب کا ہر قدم صرف ریاست کے مفاد میں ہے،نیب کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، نیب کا ہر قدم صرف اور صرف ملک اور ریاست کے مفاد میں ہوتا ہے، کبھی کسی کے فیس کو نہیں بلکہ کیس کو دیکھتے ہیں، آج تک تمام اقدامات قانون، آئین اور نیب قوانین کے مطابق اٹھائے ہیں، نیب کو کوئی شوق نہیں کہ وہ تھانیداری کرے،نیب بلاوجہ تفتیش کرے، ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے آج 84ارب ڈالر کے مقروض ہیں اور یہ رقم کہیں خرچ ہوتی نظر نہیں آئی، اگر کسی سے یہ سوال کر لیا جائے کہ آپ حکومت میں تھے اور آپ کے پاس قومی امانت تھی آپ نے کہاں خرچ کی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سمجھنا شروع کریں کہ نیب ہمارے ساتھ زیادتی کر رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی کوئی زیادتی نہیں بلکہ شکایت کا ازالہ ہوتا ہے اور جب بھی نیب نے کسی شکایت کی جانچ پڑتال کی اور اس نے اپنے تمام ذرائع استعمال کئے، قانون اجازت دیتا ہے کہ نیب کے پاس اگر کوئی شکایت آئے تو اس کی جانچ پڑتال کی جائے کہ یہ کیس بنتا ہے یا نہیں،چاہے حکمران ہوں، سیاستدان ہوں یا بیورو کریٹ ہوں انہیں زیادہ حساس اور غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں،نیب ملک کا ادارہ ہے کہیں باہر سے نہیں آیا، نیب کے ساتھ جتنا تعاون کیا جائے گا اس کے نتائج زیادہ بہتر نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیب جو کچھ کر رہا ہے وہ ملک کی بہتری کیلئے کر رہا ہے، نیب کے کسی قسم کے سیاسی عزائم نہیں اور نیب کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے، الیکشن کے نتیجہ میں جس کی بھی حکومت آئے ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،ہم نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ کسی نے کرپشن کی ہے یا نہیں، اگر کسی نے کرپشن کی ہے تو اسے نہیں چھوڑیں گے اور اگر کوئی بے گناہ ہے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ نیب پر کوئی طنز کرتا ہے یا پھر تذلیل کرتا ہے اس کی اپنی مرضی، نیب کو کسی تشہیر کی ضرورت نہیں، لیکن نیب اپنے اختیارات آئین اور قانون کے مطابق ہر ایک کی عزت نفس کو سامنے رکھتے ہوئے استعمال کرتا رہے گا، بہتر یہ ہے کہ جن کے ذہن میں یہ بات موجود ہے کہ ہمیں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا یا ہماری طرف نہیں دیکھا جا سکتا وہ اپنی غلط فہمی دور کرلیں اور ان کو کہا بھی جا سکتا ہے وہ قانون کی گرفت میں بھی آ سکتے ہیں اور قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس آئے گی جن لوگوں کا حق ہے ان تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے لوگوں کی ڈوبی ہوئی رقوم برآمد کی ہیں اور جن کا حق تھا انہیں دیا، لوگ جب کبھی مختلف سکیموں میں پیسہ لگائیں تو اس بات کو ضرور دیکھ لیں کہ کہیں یہ پیسہ ان کا ڈوب نہ جائے، مضاربہ کے کیس کی مثال دیکھ لیں، ڈبل شاہ کی طرح کے لوگ پورے ملک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکمے اپنا کردار ادا کریں اور عوام کا سرمایہ فراڈیوں کے ہاتھ جانے سے روکیں۔

انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی کی وابستگی اور وفاداری پاکستان کے ساتھ ہے، حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں، بیورو کریسی کا کام حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے، لیکن بیورو کریسی اتنا ضرور سوچے کہ وہ کہیں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار تو نہیں، ملک کے خلاف تو نہیں، ریاست کے خلاف تو نہیں، جو بھی اقدامات ہوں وہ ریاست کے مفاد میں ہونے چاہئیں، پاکستان قائم و دائم ہے اور ہمیشہ رہے گا، نیب کوئی خوف و ہراس نہیں پھیلا رہا، اگر آپ دیانتدار ہیں تو اور راہ راست پر ہیں تو آپ کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں نیب آپ کے ساتھ ہے۔