افغانستان ایشیاء کا دل،خطے کی ترقی و سکیورٹی افغانستان سے جڑا ہے،ناصر خان جنجوعہ

اشرف غنی کی امن پیشکش خوش آئندہ ،،تمام اسٹیک ہولڈرز کو ان کی تجویز کی حمایت کرنی چاہئیں،افغانستان کے بعد پاکستان نے سفر کیا،مشیر قومی سلامتی بدلے کی آگ نے طالبان کو پہلے انتخابات سے باہر رکھا گیا،اگر الیکشن عمل کا حصہ بنایا جاتاوہ ہتھیار اٹھانے کی بجائے ووٹ گن رہے ہوتے،سیمینار سے خطاب

جمعرات مئی 20:26

افغانستان ایشیاء کا دل،خطے کی ترقی و سکیورٹی افغانستان سے جڑا ہے،ناصر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے کہ افغانستان ایشیاء کا دل ہے، خطے کی ترقی و سکیورٹی افغانستان میں قیام امن سے منسلک ہے،اشرف غنی کی امن پیشکش خوش آئندہ ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی نے امن کی پیش کش کی،تمام اسٹیک ہولڈرز کو ان کی تجویز کی حمایت کرنی چاہئیں،،افغانستان میں بدلے کی آگ نے پہلے انتخابات کے دوران طالبان کوانتخابی عمل سے باہر رکھا گیا،اگر ان کو الیکشن عمل میں شامل کیا جاتا توآج وہ ہتھیار اٹھانے کی بجائے ووٹ گن رہے ہوتے،کیا پھر سترہ سال لمبی جنگ ہوتی افغان معاشرہ مشکل حالات دوچار ہوا،،افغانستان کے بعد پاکستان نے سفر کیا، دونوں ممالک کے دکھ ،درد مشترک ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ایس ڈی پی آئی اور نیشنل سکیورٹی ڈویڑن کے زیر اہتمام’’ افغانستان اور خطے میں قیام امن اور ترقی ‘‘کے موضع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ناصر جنجوعہ نے کہا کہ بدقسمتی سے افغانستان میں چالیس سالوں میں صرفجنگوں پر سرمایہ کاری ہوتی رہی، افغانستان کے بچوں نے جنگوں کے سواکچھ نہیں دیکھا،آج بھی افغان معاشرہ زخم خوردہ ہے،بطور مشیر قومی سلامتی کہتا ہوں کہ ہمارے دلوں میں افغانستان کیلئے محبت ہیں،،پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھائیوں جیسا رشتہ ہے،غلط سوچ کی وجہ سے دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پید کی جارہی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حد سے زیادہ طاقت کے استعمال سے طالبان حکومت کیساتھ ساتھ افغان معاشرہ کو بھی تباہ کیا گیا،افغان معاشرہ آج بھی مشکلات سے دوچار ہے،،طالبان اسی تباہ حال معاشرے سے طالبان بھرتیاں کرتے رہے،،افغانستان اور پاکستان کا مستقبل ایک ہے،،دنیا کی86 فیصد آباد ی کو جوڑنے والے ممالک پاکستان ،،افغانستان اور ایران ہیں،پاک افغان تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، افغانستان دنیا کی انڈسٹریل حب بننے کی صلاحیت رکھتاہے،،دنیا افغانستان سے معدنیات اپنے ممالک منتقل کرنے کی بجائے بعد وہاں انڈسٹری کے قیام پر توجہ بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ساری دنیا سے لائے گئے جہادیوں نے افغانستان کو اپنا مسکن بنالیا اور وہاں سے دہشتگردی نے جنم لی،جس کی جھلک دنیا نی9/11 کی شکل میں دیکھی،،پاکستان پر دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام لگانے والے بتائیں، اس وقت پاکستان دنیا کے ساتھ کھڑا تھا یا 9/11 کرنے والوں کے ساتھ پھر بھی ڈبل گیم الزامات لگائے جاتے ہیں، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف60 ہزار لوگوں کی قربانیاں دیں، جس میں سے ہر کسی نے سینے پر گولی کھائی،،دنیا کو پاک افغان سرحد کی نوعیت کا علم ہی نہیں،پاک فوج دشوار گزار سرحد میں فرائض انجاد دے رہی ہے،،دنیا ذرا آئے اور آکر اس سرحد پر دہشتگردوں کو روک کر دکھائے،روزانہ تقریباًً 50 ہزار افراد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں،،پاکستان میں آنااور جانا آسان ہے،اگر نقل حرکت سخت ہوتی تو کیا مشترکہ شادیاں ہوتیں ، اس وقت افغانستان کے ساتھ خیبر پختونخوا میں128 اور بلوچستان میں234 کراسنگ پوائٹس ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سویت یونین کے حملہ کے وقت اگر پاکستان افغانستان کا ساتھ نہ دیتا تو آج افغانستان نہ ہوتا،،طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات لگانے والے بتائیں ،اگر پاکستان محفوظ ٹھکانے فراہم کرتا تو طالبان اور حقانی نیٹ ورک ریاست پاکستان کے خلاف جہاد کیوں کررہے ہیں کیوں ریاست پاکستان 60 ہزار حقانی نیٹ ورک کے دہشتگردوں کو مارتی افغانستان اور پاکستان کو مشترکہ کوششوں سے امن کے قیام کیلئے کوششیں کرنے چاہیے۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پندرہ سالوں میں ترقی بھی بہت ہوئیں، نئی یونیورسٹیاں بنیں،،تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوا، زرعی شعبے نے بھی کسی حد تک ترقی کی، تاہم مشکلات کہیں زیادہ ہے،،امریکہ کسی بھی حالت میں افغانستان میں رہنا چاہتا ہے، جس کے بہت سی وجوہات ہیں، وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو روکنا، ایران پر پریشر قائم رکھنا اور پاکستان پر اثر انداز ہونے کیلئے ہر حال میں افغانستان میں رہنا چاہتا ہے۔

ماہر افغان امور وسینئر تجزیہ نگار امتیاز گل نے کہا کہ جب تک افغانستان کے لوگوں کے خواہشات کے مطابق قیام امن کا فیصلہ نہیں کیا جاتا تب تک دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں،دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کی بحالی وقت کی ضرورت ہے، افغان پالیسی کو صرف بیوروکریسی کے رحم کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے،،پاکستان اور افغانستا ن کے درمیان تجارتی شعبہ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

نیشنل سکیورٹی ڈویڑن کے سیکرٹری سید افتخار حسین نے کہا کہ دونوں ممالک میں قیام امن کیلئے پاکستان نے 1800 علمائ کے فتوؤں پر مشتمل پیغام پاکستان سامنے آیا،جس کے ذریعے افغانستان میں امن کے قیام میں مدد ملے گی۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کو کردار ادا کرنا ہوگا، سی پیک کی کامیابی افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔