ملائیشیا کے انتخابات میں مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعت کی تاریخی کامیابی

مہاتیر محمد کے حزب مخالف اتحاد نے 222 اراکین کے ایوان میں 112 نشستیں حاصل کیں ،حکمراں جماعت کے اقتدار کا 60 سالہ دور ختم

جمعرات مئی 21:06

کوالالمپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ملائیشیا کے عام انتخابات میں سابق وزیراعظم مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعت نے واضح کامیابی حاصل کرلی جس کے بعد حکمراں جماعت کے اقتدار کا 60 سالہ دور ختم ہوگیا۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا جس کے مطابق مہاتیر محمد کے حزب مخالف اتحاد نے 222 اراکین کے ایوان میں 112 نشستیں حاصل کیں جب کہ برسراقتدار رہنے والی جماعت باریسن نیشنل اتحاد 76 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

ملائشیا کے 92 سالہ سابق وزیراعظم مہاتیر محمد وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد وہ دنیا کے معمر ترین منتخب رہنما بن جائیں گے۔مہاتیر محمد باریسن نیشنل اتحاد سے وابستہ رہے تھے تاہم 15 برس قبل انہوں نے وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

(جاری ہے)

دو سال قبل انہوں نے دوبارہ سیاست میں آنے کا اعلان کیا اور دوبارہ سیاست میں واپس آ کر اپنے مخالف نجیب رزاق کو شکست دی۔

نجیب رزاق پر بدعنوانی کا الزام تھا جب کہ انہوں نے انتخابات میں شکست تسلیم کرلی۔۔انتخابات میں کامیابی کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوان مہاتیر محمد سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نجیب رزاق کے خلاف کارروائی کریں گے جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ قانون کی حکمرانی کے لیے کوشش کریں گے۔ ملائیشیا کی برسرِاقتدار باریسن نیشنل اتحاد اور اس کی بڑی جماعت دی یونائیٹڈ مالیز نیشنل آرگنائزیشن نے 1957 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملکی سیاست پر غالب رہی تھی۔