کشمیر ی نو جوان بھارتی فوج سے لڑ سکتے ہیں نہ لڑنے سے کشمیر کی آزادی ممکن ہے،بھارتی آرمی

چیف کی گیدڑ بھبھکی ہما ری افواج بر بر یت کا مظا ہرہ نہیں کر تی ، کشمیر ی اگر چاہتے ہیں فوجی کا روائیا ں بند ہو ں تو مسلح عسکر یت پسندو ںکو غیر مسلح کر یں ، انٹرویو

جمعرات مئی 21:09

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) بھارتی آرمی چیف جنرل بیپن روات نے آزادی کشمیر کی جنگ لڑنے والے کشمیر کی نوجوان نسل کو واضح الفاظ میں یہ پیغام دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ نہ تو وہ بھارتی فوج سے لڑ سکتے ہیں اور نہ لڑنے سے کشمیر کی آزادی ممکن ہے ۔ ایک بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ بھارتی افواج ہمیشہ ان لوگوں کے خلاف لڑ تی رہے گی جو آزادی کی تلاش میں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ہلاکتیںدہشت گرد گروہوں کی جانب سے کی گئی نئی بھرتیوں کے سلسلے کی کڑ ی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج یا بھارتی انتظامیہ مقبوضہ کشمیر میں کبھی بھی کسی کے خلاف نہ کوئی پرتشدد کاروائی اور نہ ہی کوئی ہلاکت کر تی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے خلاف کوئی ایسی کاروائی کی جائے تو پھر بھرپور طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے بھارتی چیف کا کہنا تھا کہ جس طرح سیکورٹی فورسز ہمسایہ ملک پاکستان اور شام میں مختلف حالات میں ٹینک اور فضائی طاقت کا بھر پور اسستعمال کر کے ظلم و بربریت کرتی ہیں اسکا بھارتی فوج سے موازنہ نہیں کیا جا تا تنقید کے با وجود ہماری افواج کی یہ کوشش ہوتی طاقت کااستعمال کم سے کم کرکے عام شہریوں کو ہلاکت سے بچایا جائے اور صرف دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔

انہوں نے کہامیں یہ جانتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے لیکن سیکورٹی فورسز پر حملے یا ہمارے اوپر پتھرائو کرنا اس کا یہ راستہ نہیں ہے دہشت گردوں کے خلاف مقامی لوگوں کے احتجاج پر بھارتی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر لوگ یہ نہیں چاہتے کہ بھارتی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہ کریں تو وہ انہیں کہیں کہ وہ اسلحہ پھینک کر اپنے آپ کو فورسز کے حوالے کر دیں