راولپنڈی: پولیس حراست میں ملزم پر مبینہ وحشیانہ تشدد ، جان سے مارنے کا الزام

تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او اور سب انسپکٹر کیخلاف مقدمہ درج ، مذکورہ دونوں افسران کو ایک روز پہلے معطل کردیا گیا تھا

جمعرات مئی 21:14

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) تھانہ سول لائن پولیس نے زیر حراست ملزم پر مبینہ وحشیانہ تشدد کر کے جان سے مارنے کے الزام میںتھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او اور سب انسپکٹر کے خلاف مقدمہ کر لیا ہے مذکورہ دونوں افسران کو ایک روز پہلے معطل کر دیا گیا تھادونوں پولیس افسران کے خلاف یہ مقدمہ متوفی کے بھائی کی درخواست پر درج کیا گیا ہے 48سالہ منصور علی کے بھائی حسیب الحسن سکنہ مکان نمبر140/3 گلی نمبر2 فیصل کالونی ٹنچ بھاٹہ نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ 23 اپریل کو مقتول منصور علی اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے گیا لیکن واپس نہ آیا بعد ازاں معلوم ہوا کہ مہران کارنمبر اے ایف اے 284 میں سوار سول کپڑوں میں ملبوس افراداسے موٹر سائیکل سمیت زبردستی لے گئے ہین جس پرایس ایچ او تھانہ آر اے بازار طارق مسعود نے رابطہ کرنے پر کہا کہ اس نے پتہ کرایا ہے تمہارا بھائی کسی تھانے میں نہیں اسے خفیہ والے اٹھا کر لے گئے ہیں 10 دن بعد آ جائے گابعد ازاں پتہ چلنے پرتھانہ صدر بیرونی رابطہ کیا توایس ایچ اوراجہ اختر اور سب انسپکٹر بلال نے کافی دیرلیت ولعل کے بعد بتایا کہ ہمارے پاس ہے تفتیش کر کے چھوڑ دیں گے جس کے بعدآر پی او آفس میں تعینات کانسٹیبل اعجاز نے فون کیا کہ بھائی کو لے جائو جس گھر لائے تو اسے قے ہوئی اور وہ کھڑے ہونے یا بیٹھنے کے قابل نہ تھا جس پر اس کا علاج معالجہ کرایا اس نے بتایا اسے بھوکا پیاسا رکھ کر تشددکیا گیا اور اس کے گردوں کی جگہ پر لاتیں ماری گئیںجس پر اسے 2 مئی کوڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے آئے جہاں پر6 مئی کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ تشدد کی وجہ سے گردے فیل ہو گئے اس کاڈائیلیسز کرنا ہے تاہم اس طرح کئی روز اذیت برداشت کرنے کے بعد9 مئی کواس کا بھائی دم توڑ گیادرخواست میں کہا گیا کہ ایس ایچ اوراجہ اختر اور سب انسپکٹر بلال نے اسی4روز غیر قانونی حراست میں رکھ کر وحشیانہ تشدد کیا جس سے اس کی موت واقع ہوئی حالانکہ اس کے خلاف نہ کوئی مقدمہ تھا نہ کسی کی طرف سے کوئی درخواست دی جس پر تھانہ سول لائن پولیس نے ایس ایچ اوراجہ اختر اور سب انسپکٹر بلال کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ302 اور 155سی کے تحت مقدمہ نمبر371/18 درج کر لیا ہے دریں اثنا منصور علی کی المناک موت کے خلاف گزشتہ روز بھی اہلیان علاقہ اور لواحقین نے احتجاج کیا مظاہرین کا موقف تھا محکمہ پولیس میں معطلی معمول ہے جس میں تمام تنخواہ اور مراعات ملتی رہتی ہیں اور سنگین جرائم میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کو کچھ دن معطلی کے بعد نئی جگہ تعینات کر دیا جاتا ہے انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیں اوروزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ دونوں پولیس افسران کو ملازمت سے برطرف کیا جائے۔