حسن ابدال:ظفرہسپتال انتظامیہ اورمقامی سیاسی قائدین کامعمر خاتون اوراہلِ خانہ کودبائومیںلانے کی کوششیں

صحافیوںاورمیڈیاکے ساتھ ڈاکٹرظفرکے خلاف زبان بندی پر اصرار،بھاری مالی معاونت کی پیشکش کے ساتھ ساتھ برادری سے بے دخلی کی دھمکیاں،مظلوم خاندان کی چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل

جمعرات مئی 21:24

حسن ابدال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ظفرہسپتال انتظامیہ اورمقامی سیاسی قائدین کامعمر خاتون اوراہلِ خانہ کودبائومیںلانے کی کوششیں،صحافیوںاورمیڈیاکے ساتھ ڈاکٹرظفرکے خلاف زبان بندی پر اصرار،بھاری مالی معاونت کی پیشکش کے ساتھ ساتھ برادری سے بے دخلی کی دھمکیاں،مظلوم خاندان کی چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل۔تفصیلات کے مطابق ظفرہسپتال حسن ابدال کے ناتجربہ کارعملے کے ہاتھوںبازوضائع ہونے والی معمرخاتون پرویزاخترزوجہ خورشیدخان کے بیٹے عبدالرحمٰن سکنہ لارنس پور نے گزشتہ روزہمارے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ سیاسی جماعت کے مقامی رہنمائوں فیصل،واصف اورطاہرخان وغیرہ کے ذریعے ہمیںاس ظلم کے خلاف چپ رہنے پرمجبورکیاجارہاہے اور میڈیا کو حقائق نہ بتانے پربھاری معاوضے کی پیشکش کی جارہی ہے بصورت دیگر سنگین نتائج اوربرادری سے نکالنے کی دھمکیا-ںبھی دی جارہی ہیںجبکہ متکبرڈاکٹرظفرکواپنی غلطی کاذرابھی احساس نہیںہے انہوںنے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارسے اپنے لئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ انسانی جانوںسے کھیلنے والے ایسے اناڑی مسیحائوںکے خلاف قانون کے مطابق فی الفور کاروائی عمل میںلائی جائے تاکہ آئندہ کوئی مظلوم یاغریب ان کے ظلم کاشکار نہ بنے۔

(جاری ہے)

خاتون کے بھانجے نویداقبال ساکن برہان نے زوردیتے ہوئے کہاکہ ہسپتال کے مالک ڈاکٹرکواپنے کیے پر کوئی پچھتاوانہیںاس نے ہمارے پاس آناگوارہ نہیںکیااورنہ ہماری خالہ کی کوئی خبرلی علاج پرآنے والے اخراجات بھی ہم خود ادا کررہے ہیںہم غریب ضرور ہیںمگربے غیرت نہیںکسی کوزیادتی نہیںکرنے دیںگے نہ کسی کی دھمکیوںمیںآئیںگے ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے جس کاازالہ ہوناچاہئے انہوں نے بتایاکہ مقامی سیاسی جماعت کاعہدیدارفیصل جوہماراقریبی رشتہ داربھی ہے ہمیںمسلسل صلح کرنے پرمجبورکررہاہے اورہماراساتھ دینے کے بجائے ظالموںکی حمایت میں ہمیں برادری سے بے دخل کرنے کی دھمکیاںدے رہاہے ۔