سپریم کورٹ نے ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ سنا دیا

جج کی خواہش کے مدنظر رکھتے ہوئیننکارروائی کھلی عدالت میں کی جاسکتی ہے، عدالت

جمعرات مئی 21:44

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہنجج کی خواہش کے مدنظر رکھتے ہوئیننکارروائی کھلی عدالت میں کی جاسکتی ہے۔

(جاری ہے)

جمعرات کے روز سپریم کورٹ نینججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کرنیننسے متعلقننجسٹس شوکت عزیز صدیق اور جسٹس فرخ عرفان کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا ، پہلے سے محفوظ شدہ فیصلہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا اور انہوں نے ہی پڑھننکر سنایا ہے ، عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان اورنناسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست کو منظور کرتے منظور ہوے قرار دیا ہے کہ جوڈیشل کونسل دونوں ججز کی درخواستوں کا از سر نو جائزہ لے ،،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی انتظامی نوعیت کی ہوتی ہے عدالتی نہیں، دو ہزار پانچننکے قوانین کے مطابق انکوائری کا طریقہ کار درست ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی دوننحصوں پر مشتمل ہوتی ہے، ججز کے خلاف ابتدائی تحقیقات ان کیمرہ ہوں گی، فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا دوسرا مرحلہ جج کی خواہش کے مدنظر کھلی عدالت میں کیا جاسکتا ہے، موجودہ کیس میں ججز نے کارروائی کھلی عدالت میں کرنے کی استدعا کی ہے لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اپنینننا ٹھارہ مئی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفاننننکی درخواستیں مسترد کرتے ہوے ججز کے خلاف کارروائی کو ان کیمرہ کرنے کا حکم جاری کیا تھانننتاہم دونوں ججوں نے کونسل کے فیصلے کیخلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جہاں سپریم کورٹننکے پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی اور ججز کی درخواستوں کو منظور کرتے ہوے مقدمہ نمٹا دیا ہی۔