کوئٹہ،مسلم لیگ(ن) کے 4 اراکین قومی اسمبلی بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل

ن لیگ نے اپنے اراکین کی بجائے پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے قیادت کو اپنے ساتھ رکھا، بلوچستان کی پسماندگی میں مسلم لیگ(ن) نے سب سے بڑا کردار ادا کیا ،نئے انداز سے حالات کا مقابلہ کرینگے ،شمولیتی پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات مئی 22:33

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے 4 اراکین قومی اسمبلی بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہو گئے مسلم لیگ(ن) نے اپنے اراکین کی بجائے پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے قیادت کو اپنے ساتھ رکھا اور بلوچستان کی پسماندگی میں مسلم لیگ(ن) نے سب سے بڑا کردار ادا کیا پرانے کھلاڑی ہں تجربہ ہے نئے انداز سے حالات کا مقابلہ کرینگے ان خیالات کاا ظہار مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی جام کمال، رکن قومی اسمبلی دوستین ڈومکی، رکن قومی اسمبلی میر خالد خان مگسی اور رکن قومی اسمبلی خلیل بھٹو جارج نے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء سعید ہاشمی بھی موجود تھے رکن قومی اسمبلی جام کمال نے کہا ہے کہ ایک ماہ10 دن پہلے ساتھیوں سمیت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر کے مسلم لیگ(ن) سے علیحدگی اختیار کی ہم اس لئے مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوئے کہ بڑی جماعت ہے اور بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کردار ادا کرے گی مگر وقت گزرتے گزرتے بلوچستان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی ہمارے جو بلوچستان کے حوالے سے درپیش مسائل تھے اس پر بھی توجہ نہیں دی گئی جب بلوچستان عوامی پارٹی وجود میں آئی تو سمجھیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچستان میں ماضی کیساتھ جو نا انصافیاں ہوئی تھی اس کا حساب اب ضرور لیا جائیگا اس لئے ساتھیوں سے مشاورت کر کے بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہوئے مستقبل کا گارئنٹی کوئی دے سکتا تا ہم بہتری کے حوالے سے اقدامات کر تے ہیں اور بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کے حوالے سے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے حقوق کی بات تو سب کر تے ہیں لیکن ترقی کے حوالے سے کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی اصل تبدیلی لے کر عوام کو دکھائیں گے صوبے کے حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے رکن قومی اسمبلی خالد مگسی نے کہا ہے کہ جب ہم منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں ہماری موجودگی نظر نہیں آئی کیونکہ ہمیں وہ عوام کے نمائندے نہیں سمجھتے تھے اس لئے ہم نے پلاننگ کے تحت فیصلہ کیا کہ اب مزید مسلم لیگ(ن) کیساتھ نہیں رہیں گے کیونکہ مسلم لیگ(ن) کا زیادہ تر انحصار پشتونخوامیپ اور نیشنل پارٹی پر تھا اس لئے وہ ہر معاملے میں نظرانداز کر تے تھے سعید ہا شمی نے پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ جام کمال سمیت جو لوگ جو لوگ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں ہم اس کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک بہت بڑی قوت بن کر ابھرے گی اور جلد ہی پارٹی کے کونسل اجلاس بلا کر عہدیداروںکا انتخاب کیا جائیگا اور پھر مشاورت کر کے الیکشن کمیشن سے پارٹی رجسٹریشن کرائیں گے پاکستان میں سیاسی تبدیلی آرہی ہے مسلم لیگ(ن) سمیت دیگر جماعتیں جو نظریات پر چل رہی ہے اب ان کے نظریات دم توڑ چکے ہیں اور10 نکات کا ایجنڈا پیش کرینگے گوادر سے لے کر ژوب تک تقسیم در تقسیم اور نفرتوں کا خاتمہ کرینگے اگلے انتخابات میں نشستیں جیت کر زیادہ اکثریت حاصل کرینگے اور تمام اضلاع میں پارٹی کو فعال کرینگے کیونکہ یہاں پر سیاسی جماعتوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی ہی آخری امید ہے ۔