بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کے چار ارکان قومی اسمبلی نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا

میاں صاحب نے ساڑھے چار سالوں تک صرف محمود خان اچکزئی اور میر حاصل خان بزنجو کے مسائل حل کئے جبکہ مسلم لیگیوں ملاقات کیلئے وقت بھی نہیں دیتے تھے ،میر جام کمال/ میر دوستین ڈومکی

جمعرات مئی 22:23

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کے چار ارکان قومی اسمبلی نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ،انہوں نے یہ اعلان جمعرات کے روز پارٹی کے سرپرست اعلی اور سابقہ صوبائی وزیر سعید احمد ہاشمی کی موجودگی میں کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ،،مسلم لیگ (ن) سے مستعفی ہونیوالے ارکان قومی اسمبلی جن میں میر جام کمال ،نوابزادہ خالد مگسی ،میر دوستین ڈومکی اور خلیل بھٹو شامل ہیں ،میر جام کمال اورمیر دوستین ڈومکی نے کہاکہ وہ وزارتوں سے پہلے ہی مستعفی ہوگئے تھے اب باقاعدہ مسلم لیگ (ن) سے مستعفی ہوکر سعید احمد ہاشمی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہم چار ارکان قومی اسمبلی نے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہیں ،مستعفی ہونیوالے چاروں ارکان قومی اسمبلی نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پر شدید نقطہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ میاں صاحب نے ساڑھے چار سالوں تک صرف محمود خان اچکزئی اور میر حاصل خان بزنجو کے مسائل حل کئے جبکہ مسلم لیگیوں ملاقات کیلئے وقت بھی نہیں دیتے تھے ،،وزیراعظم ہائوس میں محمود خان اچکزئی اور میر حاصل خان بزنجو کے علاوہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی کی بات نہیں سنی جاتی تھی ہم نے کئی بار بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ہمیں مایوسی ہوئی ،وہ ہم سے ملاقات تک نہیں کرتے تھے ،اس موقع پر سعید احمد ہاشمی نے کہاکہ رمضان سے پہلے پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس بلایا جارہاہے ،جس میں صوبائی عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا اور اسی جنرل کونسل کے اجلاس میں آئین ومنشور کی منظوری دی جائے گی ،اور بعد میں الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی رجسٹرڈ کیلئے درخواست دی جائے گی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ہی ہم قومی وصوبائی اسمبلی کے الیکشن لڑیں گے ،نوجوان قیادت سامنے آئے گی اور صوبے میں ہماری حکومت ہوگی ،،اسمبلی میں بھی ہماری اکثریت ہوگی اس کیلئے ہمیں امید ہے کہ انتخابات میں نوجوان قیادت کو منتخب کیا جائیگا ،سعید احمد ہاشمی نے کہاکہ میدان پرانا ہے لیکن کھلاڑی نئے اور سینئر ہیں میں بھی سینئر میں شمار ہوتاہوں میں ان سب کی کوچنگ کرونگا اور جب ٹیم مضبوط اور پراعتماد ہوں تو کامیابی اسکی قدم چومے گی ،میر جام کمال نے کہاکہ جب میں وزیر مملکت پیٹرولیم تھا تو موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،،وفاقی وزیر پیٹرولیم تھے تمام اختیارات ا نکے پاس تھے اسکے باوجود میں نے جو بھی اختیارات تھے اسے استعمال کیا اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں گیس پہنچانے کی کوشش کی جس کے ٹینڈر ابھی ہوچکے ہیں اور اس پر کام بھی جاری ہے ،نوابزادہ خالد مگسی نے کہاکہ ہم نے آزاد حیثیت میں انتخابات جیتے تھے لیکن اس کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے مگر ہمیں مایوسی ہوئی جب میاں نواز شریف اپنی پارٹی کے ایم این ایز سے ملاقات نہیں کرتے تھے تو مسائل کیا ہمارے حل کرتے تھے۔