ایوان بالا،حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا،حکومتی ارکان،پانی کے مسئلہ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، اپوزیشن جماعتیں

جمعرات مئی 22:26

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ایوان بالا میں حکومت سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا ہے کہ حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا، موجودہ حکومت کو ورثہ میں بہت بڑے بڑے مسائل ملے لیکن سیاسی قیادت نے اپنے عزم سے ان مسائل کو حل کیا اور ملکی معیشت کی حالت درست کی جبکہ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا ہے کہ پانی کا معاملہ بہت اہم ہے، اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کمی آئی ہے، ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ جمعرات کو ایوان بالا میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہا کہ صوبوں کے نام میں جمع تفریق نہیں کرنا چاہئے، بلوچ اور پختون اپنی زمین پر بیٹھے ہیں، اس دھرتی کا نام بلوچستان ہے، مہربانی فرما کر آئندہ اس طرح کی بات نہ کریں۔

(جاری ہے)

بجٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری بجٹ تجاویز پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔

اس بجٹ میں اچھائیاں بھی ہیں اور خرابیاں بھی ہیں۔ زراعت کو اہمیت دی گئی ہے۔ بی آئی ایس پی کی مد میں زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔ ایمنسٹی سکیم کا مقصد فائلرز کی تعداد کو بڑھانا ہے، یہ اچھی سکیم ہے۔ بلوچستان میں پانی کے مسئلے پر توجہ دی جائے۔ سمال ڈیمز نہ بنے تو ہمارا صوبہ بنجر ہو جائے گا۔ بلوچستان کی ترقی کے لئے مختلف تجاویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو اس کا حصہ دیا جائے جو گائوں سکولوں سے محروم ہیں ان میں سکول بنائے جائییں۔

سینیٹر اسد علی جونیجو نے کہا کہ پانی کی کمی کا مسئلہ بہت اہم ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک متوازن بجٹ ہے۔ سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ محصولات نہیں ہوں گی تو منصوبے کیسے مکمل ہوں گے۔ روزگار کی فراہمی، ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ 64 فیصد پاکستان 30 سال سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے۔

سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) دوبارہ انتخابات جیت کر آئے گی۔ ساری جماعتیں مل کر بھی مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ ہم نے اقتدار سنبھالا تو ملک میں 18، 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ تھی، صنعتیں بند ہو چکی تھیں، گیس موجود نہیں تھی، دہشت گردی کے جو حالات تھے سب اس کو جانتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 200 ڈیمز بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا، کہاں ہیں وہ ڈیم۔۔

نعرہ لگانا اور بات ہے اور کام کرنا اور بات ہے۔ میٹرو کو جنگلا بس کہا جاتا تھا۔ اب پشاور میں جو میٹرو بن رہی ہے اس کا برا حال ہے۔ ہم کراچی میں امن لے کر آئے جہاں بھتے وصول کئے جا رہے تھے اور اس کی معیشت ختم ہو چکی تھی اور دہشٹ گردی کا راج تھا۔ ہم نے ملک میں وہ ترقیاتی کام کرائے جن کا کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ پاکستان کی ترقی کا راستہ روکنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کئے گئے۔

ہم نے ڈیموں کے لئے پیسے رکھے، ڈیم بھی ہم ہی بنائیں گے، پورے ملک میں موٹر ویز کا جال بچھایا گیا ہے۔ نیب نے تین سال پرانی خبر پر نواز شریف کے خلاف نوٹس لیا۔ سیاسی قیادت سے یہ رویئے رکھیں گے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا۔ سارے صوبوں کی کارکردگی دیکھ لیں، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے جو خدمت کی ہے، اس کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔