معیشت کے حوالے سے بڑے فیصلے کرنے کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا، طویل المدتی منصوبوں کا فائدہ آنے والی حکومتوں کو بھی پہنچے گا،تمام اقتصادی اشاریئے پہلے سے بہت بہتر ہیں، کچھ نئے چیلنجز سامنے آئے جن سے نمٹنے کے لئے ہم نے بہترین پالیسیاں دیں

وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل کا ایوان بالا کے اجلاس میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے اظہارخیال

جمعرات مئی 22:26

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے میثاق معیشت کیلئے کمیٹی بنانے کی تجویز کو دوہراتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں معیشت کے حوالے سے بڑے فیصلے کرنے کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا، طویل المدتی منصوبوں کا فائدہ آنے والی حکومتوں کو بھی پہنچے گا۔ حکومت نے صوبوں کو پہلے سے بہت زیادہ وسائل دیئے، صوبوں کو اپنی استعداد کار بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔

تمام اقتصادی اشاریئے پہلے سے بہت بہتر ہیں۔ کچھ نئے چیلنجز سامنے آئے جن سے نمٹنے کے لئے ہم نے بہترین پالیسیاں دیں۔ بے بنیاد الزامات لگانے والوں کو ثبوتوں کے ساتھ متعلقہ اداروں سے رجوع کرنا چاہئے۔ ایمنسٹی سکیم سے وہ پیسہ واپس آئے گا جو حالات کی وجہ سے ملک سے چلا گیا۔

(جاری ہے)

ہم نے بہترین سمت میں سفر شروع کر دیا ہے۔ جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اگرچہ اس بجٹ کو غیر آئینی کہا لیکن ارکان نے بہترین تجاویز دی ہیں۔

سینیٹ کمیٹی نے بھی بہت کام کیا ہے اور 40 تجاویز ہمیں بھیجی ہیں جن پر غور شروع کر دیا ہے۔ سینیٹ کی تجاویز کو گزشتہ بجٹ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کی تنقید ہمارے لئے رہنمائی کا باعث ہوتی ہے۔ بحث سے علاقے اور صوبے کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد 56 فیصد وسائل صوبوں کے پاس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2.5 ٹریلین روپے صوبوں کو اضافی دیئے گئے ہیں۔

مرکز سے صوبوں کو ہر روز ایک ارب روپیہ زیادہ گیا ہے۔ صوبوں کو وسائل کی کمی نہیں، اب مرکز کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل سندھ کے وزیراعلیٰ نے جو بیان دیا ہے کہ استعداد کار کا مسئلہ ہے اس کی تائید کرتا ہوں، صوبوں کو جو وسائل جا رہے ہیں ان کی استعداد بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ وفاق سے ہر صوبائی حکومت کو 15 دن بعد فنڈز کا چیک جاتا ہے۔

رانا محمد افضل نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جو دو ڈیم بنانے ہیں ان پر پیسہ وفاق کا لگ رہا ہے، فائدہ تمام صوبوں کا ہے۔ پانچ سالوں میں ہم کہاں پہنچے ہیں اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم 5.8 فیصد شرح نمو پر پہنچ گئے ہیں۔ اس طرح شرح نمو ڈبل ہو گئی ہے۔ ایف بی آر کی محصولات کی وصولی 4 ٹریلین ڈبل سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات صوبوں کو دوگنا ہو چکی ہیں۔

حکومت نے امیروں سے ٹیکس وصول کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کیا اور صوبوں کو بھی دیا۔ افراط زر 4.8 فیصد رہی اس سال 3.8 فیصد رہی، ماضی میں 11.8 فیصد اور 17 فیصد بھی رہیں۔ اس میں ہماری محنت بھی ہے اور الله کی مدد بھی شامل حال رہی ہے۔ زرعی شعبے کی کارکردگی بہترین رہی ہے۔ ہماری ایکسپورٹس ہمارے لئے چیلنج رہی ہیں جو اب واپسی کی طرف آ گئی ہیں۔ سال کے اختتام تک 24/2 کے اپنے ہدف تک پہنچ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ورلڈ بینک کا پروگرام ہم نے کامیابی سے مکمل کیا جس سے پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی۔ انرجی میں 12 ہزار میگاواٹ کو پہنچے۔ اڑھائی سال سے صنعتوں کو 24 گھنٹے بجلی دے رہے ہیں۔ اس کو کوئی متنازعہ نہیں بنا سکتا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن جرات مندی سے کئے، یہی فوج تھی، پرویز مشرف کی بھی جرات نہ ہوئی کہ آپریشنز کا آغاز کریں لیکن نواز شریف نے جرات کا مظاہرہ کیا اور سیاسی قیادت نے ذمہ داری لی، آج پاکستان ایک پرامید اور پرامن ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ ایک چیلنج ہے، آج ہمارے پاس پیسہ ہے، ہم سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہترین سمت میں سفر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ڈالرز کی قلت پوری ہو جائے گی۔ ترکی بھی اسی صورتحال سے نکلا ہے۔ سرمایہ کاری کے فوائد سامنے آئیں گے۔ نیلم جہلم پر پیسہ لگا لیکن اب اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے معیشت کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

صنعتوں کو سپورٹ کرنے کے لئے بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں۔ فی کس آمدنی ایک لاکھ 80 ہزار پر چل گئی ہے۔ ایسے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔ حکومت مستقبل کے لئے سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ملک میں بے تحاشا شعبوں کی ضرورت ہے۔ ہم دوسرے ممالک کو اشیاء ایکسپورٹ کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ آج ایک پرامید پاکستان ہے جہاں لوگ نئی کمپنیاں بنا رہے ہیں۔

سی پیک کی کنیکٹویٹی سے قومی یکجہتی میں اضافہ ہوگا۔ ٹیکس میں جو مراعات دی ہیں اس سے 80 ارب کا لاس آئے گا۔ ہم 2 ہزار ارب روپے ہر سال بڑھا رہے ہیں تو کاروبار کے لئے مراعات دینے کی ضرورت ہے اور یہی ہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مہمانوں سے تجارتی تعلقات بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس سلسلے میں اقدامات کی ضرورت ہے۔ میثاق معیشت کے لئے کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں مل کر بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم پی آئی اے،، اسٹیل ملز جیسے اداروں کی نجکاری کے حوالے سے فیصلے نہ کر کے مشکلات کا شکار ہیں۔ ہمیں ڈسکوز کے نقصانات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ لاس والے فیڈرز کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ ہم صوبوں کو بلک میں بجلی دینے کو تیار ہیں۔ ہم جو پیسے کما رہے ہیں وہ گر میں جا رہے ہیں۔ ہائیڈل پلانٹس پر ہم نے جو سرمایہ کاری کی ہے وہ آنے والے وقت میں کام آئے گی۔

ہمیں طویل المدت منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ محض قلیل المدت منصوبوں سے واہ واہ نہیں کرانی۔ اس کے لئے میثاق معیشت کی ضرورت ہے۔ اعظم سواتی نے ٹیکنیکل چوری کا الزام لگایا، یہ اس سے بھی برا الزام ہے جو پاکستان کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔ الزام لگانے والوں کو ثبوتوں کے ساتھ متعلقہ اداروں سے رجوع کرنا چاہئے۔ دفاعی بجٹ کے حوالے سے بات ہونی چاہئے۔

ہم نے ملازمین کے ہائوس رینٹ میں اور ایڈوانسز میں اضافہ کیا۔ ایمنسٹی سکیم کو اکثر ارکان نے مسترد کیا لیکن بڑی تعداد میں بلوچستان،، کے پی کے سے بالخصوص ایسے لوگ ہیں جن کے کاروبار ختم ہو گئے۔ اب حالات ایسے ہیں کہ وہ واپس آ سکتے ہیں۔ انہیں یہ موقع ملنا چاہئے۔ پراپرٹی کی مد میں بڑی سرمایہ کاری ہوئی یہ سرمایہ کاری صنعتوں میں آنی چاہئے۔

ہم نے بجٹ میں مختلف صنعتوں، زراعت اور دیگر شعبوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے 1700 کلو میٹرز ہائی ویز بنائی ہیں۔ سراج الحق نے سود سے پاک معیشت کی بات کی ہے۔ ہماری بھی یہی خواہش ہے لیکن اب بنکوں کی اسلامی شاخیں موجود ہیں۔ فاٹا میں انفراسٹرکچر بلڈنگ کے لئے ہم نے اقدامات کئے۔ افغان سرحد پر باڑ لگائی جا رہی ہے، یہ ہماری اہم سرمایہ کاری ہے۔

کالا باغ ڈیم ایک ’’ٹیبو‘‘ بن چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس پر بات نہیں ہو سکتی کیونکہ اس پر صوبوں کی قراردادیں ہیں لیکن ہمیں ملک میں پانی کی قلت کے مسئلہ کو دیکھنا ہوگا اور میثاق معیشت کے ایجنڈے میں اس معاملے کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ انہوں نے بجٹ کے لئے تجاویز دینے والے ارکان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور اسحاق ڈار کی رہنمائی میں حکومت نے ملکی معیشت کے لئے اقدامات کئے۔

انہوں نے بجٹ کے لئے ہمایوں اختر کی خدمات اور کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو وسائل دے دیئے ہیں اب وہ اپنی استعداد کار بہتر بنائیں اور ان وسائل کو بروئے کار لائیں۔ پنجاب کی حکومت نے کمپنیاں بنا کر اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا مناسب آڈٹ ہو سکے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی مثال دی اور کہا کہ پنجاب کے پانچ شہروں میں یہ کمپنیاں بہترین کام کر رہی ہیں اور اب ہم اس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں کہ اس فضلے سے توانائی پیدا کر سکیں۔