خواتین کا رمضان المبارک میں چینلز پر نیلام گھروں اور انعامی پروگراموں پر پابندی کاخیرمقدم

جمعرات مئی 22:34

ملتان۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) اسلام آبادہائی کورٹ کے اس فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہیںجس میں عدالت عالیہ نے رمضان المبارک کے دوران ٹی وی چینلز پر نیلام گھروں اور انعامی پروگراموں کوٹیلی کاسٹ کرنے پر پابندی لگادی ہے۔ان خیالات کااظہار مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سیاسی وسماجی رہنماء شہنازلودھی نے کہاکہ عدالت کا یہ حکم قابل تعریف ہے کہ رمضان المبارک کے دوران ٹی وی چینلز پر پانچ وقت اذان ٹیلی کاسٹ کی جائے ۔مسلم لیگ(ن)کی رہنماء ثروت عتیق نے کہا کہ بعض نجی چینلز نے رمضان المبارک میں ایسی نشریات دکھائیں جواحترام رمضان کے تقاضوں کے منافی تھیں ۔اس قسم کے پروگرامز کوبنا کیا جانا ہی ضروری تھا۔

(جاری ہے)

سماجی رہنماء زاہدہ خان نے کہاکہ انعامی پروگرام میں تقلیں اتارنا ،شکلیں بنانا،جانوروں کی آوازیں نکالنا اور شورشرابہ کرنا اس ماہ مقدس کے احترام کومجروح کرتا ہے۔

عین عبادت کے قوت دعا کی بجائے انعام جیتنے کی لالچ میں ہلاگلا کیاجاناغلط ہے۔سوشل ویلفیئر آفیسر کومل اعجاز نے کہاکہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں ماہ مقدس کے احترام میں عبادات کی بجائے نیلام گھر جیسے پروگراموں میں شرکت کے طریقوں کو کیسے یقینی بنایا جاتا ہے یہ سیکھایا جاتا ہے ۔سماجی رہنماء طاہرہ نجم نے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک کے دوران ٹرانسمیشن کے اوقات کابھی تعین کیا جائے کیونکہ بعض چینلز رات رات بھی نشریات جاری رکھتے ہیں جو لوگوں کی عبادت میں خلل کا باعث بنتی ہے۔

متعلقہ عنوان :