پاکستان کی اقتصادی کامیابی میں خیبر پختونخوا کے بڑھتے ہوئے تزویراتی کردار پر اے سی سی اے کے زیر اہتمام کانفرنس کا انعقاد

جمعرات مئی 22:37

پاکستان کی اقتصادی کامیابی میں خیبر پختونخوا کے بڑھتے ہوئے تزویراتی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکائونٹس(اے سی سی ای) کے زیر اہتمام ’’ابھرتے ہوئے پاکستان کیلئے ایک اہم ستون‘‘ کے موضوع پر کانفرنس پشاور میں جمعرات کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کی اقتصادی کامیابی میں خیبر پختونخوا کے بڑھتے ہوئے تزویراتی کردار کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔

تقریب کے مہمان خصوصی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیڈرز کے لئے سب سے اہم کام مختلف منظر ناموں اور حقیقت پسندانہ ترجیحات پر مستقبل کی جانب دیکھنا ہے۔ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے ہمیشہ پیشن گوئیاں ہوتی رہی ہیں لیکن قوم کو اب چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل میں مختلف منظر نامہ کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں اور کام شروع ہو چکا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری ((سی پیک)) پاکستان کی نوجوان آبادی کیلئے عظیم موقع پیش کرتی ہے اور ادارے انہیں ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں۔ ملک کو ان اہم پیشرفتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیشہ ورانہ سوچ کے حامل اکائونٹس کی ضرورت ہے۔ یو این ڈی پی کے پروگرام سپیشلسٹ فیڈریکا ڈسپنزا نے ’’ابھرتے ہوئے پاکستان‘‘ کیلئے اپنے نقطہ نظر اور یو این ڈی پی کی جانب سے شروع کردہ اہم تذویراتی وسائل کا تبادلہ کیا۔

کانفرنس کے دوران مقررین میں RUBA گروپ آف کمپنیز کے سی ای او محمد آصف، شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، بینک آف خیبر کے منیجنگ ڈائریکٹر و ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ محمد شہباز جمیل، KPECDMC کے سی ای او سعید احمد خان، KPOGCL کے سی ای او رضی الدین راضی نے ’’ایک پائیدار اور جامع ترقیاتی نظام‘‘ کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

سیشن میں شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر حنا کرامت نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔پینل مباحثوں میں مقررین حاضرین کے ساتھ مشغول رہے۔ سی پیک کے پراجیکٹ ڈائریکٹر حسن دائود بٹ نے سی پیک کے عالمی اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز خیبر پختونخوا کی سابق صدر نزہت رئوف نے تنوع اور شمولیت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

پروفیشنلز اکیڈمی آف کامرس پشاور کے پرنسپل خواجہ اویس بلال نے ’’ابھرتے ہوئے پاکستان کے لئے اہم ستون‘‘ پر زبردست بحث کی اور آخر میں سمیڈا کے سینئر منیجر آپریشنز راشد امان نے ترقی کے مواقع پیدا کرنے میں ایس ایم ایز کے کردار پر اپنے تاثرات بیان کئے۔اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ سجید اسلم نے کہا کہ اے سی سی اے نے ملک کو اقتصادی خوشحالی کے حصول کی جانب گامزن کرنے کیلئے اہم اداروں کے ساتھ ایک روڈ میپ تشکیل دیا ہے۔

ان دنوں ہر ایک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اے سی سی اے بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کے ساتھ اپنی عالمی رسائی کو بڑھانے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس قسم کے سیشنز اے سی سی اے کی پاکستان کی اقتصادی کامیابی کیلئے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔