دور حاضر میں بینکنگ سسٹم میں بڑی تبدیلیاں اور نئے چیلنجز سامنے آچکے ہیں،ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک

جمعرات مئی 22:37

ملتان۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان شمس الحسن نے کہاکہ دور حاضر میں بینکنگ سسٹم میں بڑی تبدیلیاں اور نئے چیلنجز سامنے آچکے ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان ملتان کے آڈیٹوریم میں ’’مالیاتی اداروں میں ہوشمندی کے ساتھ آپریشنل معاملات کو نمٹانا‘‘ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ ایف آئی اے اور نیب کے تعاون سے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہماری بھرپور تیاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ نیب اور ایف آئی اے کے ادارے مالیاتی اداروں میں ہونے والے فراڈ سے نمٹنے کے لیے ماضی کے مقابلے میں بہتر طورپر ٹرینڈ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بینک کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ اسے دنیا کا بہترین مرکزی بینک مانا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سیمینار میں موجود بنیکرز کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے بینکوں کے کسٹمرز کو موجودہ دور میں بینکوں میں ہونے والے فراڈیا ناگہانی صورت حال کے بارے میں پہلے سے آگاہی دیتے رہیں۔

انہوں نے اس موضوع پر نیب کی طرف سے سیمینار منعقد کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ دور کا اہم مسئلہ ہے جس کو محسوس کرتے ہوئے نیب نے اس پر بحث و مباحثے کا اہتمام کیا۔۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے بشارت محمود نے ای بینکنگ ،اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈز فراڈ پر شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہاکہ بینکوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطوں میں مزید اضافہ ہونا چاہیے تاکہ اس طرح کے فراڈ کو روکا جاسکے اور سٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔

مسلم کمرشل بینک کے یونٹ ہیڈ آف کمپلائنس ،اشورنس اینڈ انٹرنل کنٹرول عاصم خان سوری نے متوازی بینکاری نظام پر تفصیل روشنی ڈالتے ہوئے ڈبل شاہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ بینکوں کے ضابطہ کار پر عمل نہ کرنے ، سپروژن کی کمزوری کی وجہ سے متوازی بینکاری پروان چڑھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بینکوں کی اعلی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کیشیئرز ،کسٹمر سروسز آفیسر ،جی بی اوز ،برانچ منیجرز اور دیگرافسران پر آنکھیں بند کرکے اعتماد نہ کریں اور اپنے کسٹمرز کو غیرفطری منافع دینے جیسی سکیموں کے نقصانات سے آگاہ کر یں۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر سٹیٹ بینک آف پاکستان سید عرفان علی اور نیب کے بینکنگ معاملات کے ماہرخالد رفیق نے کہاکہ قرضے دینا بینک کا بنیادی کام ہے اوزیہی بینک کا ٹیسٹ بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ نان پرفارمنگ لون(این پی ایل)بینکوں کا بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے بینکوں کا قرض دینے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ اس معاملہ پرمنقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد اور سکیورٹی اہم کردارادا کرتی ہے ۔

قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نیب ملتان عتیق الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشی ترقی میں باصلاحیت معاشی ادارے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اس سیمینار کے انعقاد کا بنیادی مقصد بینکنگ کمیونٹی کو زیادہ ذمہ داری بنانا ،اس کے سپروائزری کردارکو مزید بہترکرنا اور بدعنوانی کے خلاف نیب کا ساتھ دینے کے طریقہ کار کووضع کرنا ، طریقہ کار کی خامیاں اور عام بے ضابطگیوں پر قابو پاکر کرپشن کاخاتمہ کرنا ہے۔