سندھ پولیس کی پیشہ وارنہ صلاحیتوں میں اضافہ سمیت خصوصی یونٹس تشکیل دیئے گئے،

سندھ پولیس میں این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کی گئیں سندھ پولیس کیلئے 5.348 ارب روپے، پاکستان رینجرز (سندھ) کیلئے 306.855 ملین روپے، فرنٹیئر کانسیٹبلری سندھ 14.865 ملین روپے اور محکمہ داخلہ اور اس سے متعلقہ دفاتر کیلئے 42.996 ملین روپے رکھے گئے ہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سندھ بجٹ اجلاس 2018-19ء میں امن و امان کے حوالے سے تقریر

جمعرات مئی 22:41

سندھ پولیس کی پیشہ وارنہ صلاحیتوں میں اضافہ سمیت خصوصی یونٹس تشکیل ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ بجٹ اجلاس 2018-19ء میں امن و امان کے حوالے سے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ سندھ پولیس کی پیشہ وارنہ صلاحیتوں میں اضافہ سمیت خصوصی یونٹس بھی تشکیل دیئے گئے ہیں جن میں کائونٹر ٹیرریزم ڈیپارٹمنٹ، اسپیشل سیکیورٹی یونٹ، ریپڈ رسپانس فورس، اینٹی رپورٹ یونٹ، اینٹی کار لفٹنگ سیل اور آئی ٹی کیڈر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کی گئی ہیں، اس کیلئے فوج کی نگرانی میں تربیت، بہتر پیکج، ویلفیئر اسکیم، شہید کمپینیشن، ریکنگائزیشن ایکٹ 2014 ء بھی متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ شہید ہونے والوں کے خاندانوں میں اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کی مالی معاونت کیلئے 1 ہزار ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

مراد علی شاہ نے کہا کہ این ٹی ایس کے ذریعے 10 ہزار پولیس اہلکاروں کی بھرتیاں کی گئی ہیں، فوج کی نگرانی میں بھرتی کئے گئے پولیس اہلکاروں کی تربیت کے 159 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ تحقیقات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے فارنزک لیب، ڈی این اے لیب اور ریکارڈ ڈیٹا کا قیام شامل ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پولیس کی تاریخ میں پہلی بار پورے سندھ میں ڈرائیونگ لائسنس کوریئر سروس کے ذریعے امیدواروں کے گھروں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کی سطح پر پبلک پولیس کے مابین دوستانہ ماحول قائم کرنے کیلئے فیسیلٹی مراکز کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو ون ونڈو سروس مہیا ہو سکے جس میں ایف آئی آر کی رجسٹریشن اور دیگر شکایات کا اندراج شامل ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مزید زیر تجویز منصوبوں میں سی ٹی ڈی کی پیشہ وارنہ مہارت کو کائونٹر ٹیرریزم فورس کے مطابق بنایا جائے گا، شہید اہلکاروں کے لواحقین اور زخمی اہلکاروں کی مالی امداد کے لئے دیگر صوبوں کی طرح 2 ارب روپے کی مالی امداد کا پیکج رکھا گیا ہے، سی پیک کے لئے سیکیورٹی کے حوالے سے 2782 بھرتیاں کی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹریننگ، کرائم برانچ، ٹریفک،، ٹیکنیکل اور ٹریننگ سندھ کے یونٹس کو بہتر بنانے کے لئے 2959 اسامیوں کی تخلیق اور سندھ کے مختلف رینکس میں 11259 بھرتیاں بھی کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی خریداری کے لئے 2018-19ء کی ایس این ای میں 5.712 ارب رو پے رکھے گئے ہیں جس میں سندھ پولیس کیلئے 5.348 ارب روپے، پاکستان رینجرز ((سندھ)) کیلئے 306.855 ملین روپے، فرنٹیئر کانسیٹبلری سندھ 14.865 ملین روپے اور محکمہ داخلہ اور اس سے متعلقہ دفاتر کیلئے 42.996 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جرائم کی مجموعی صورتحال پر قابو پانے کے لئے صوبائی حکومتوں نے اپنے طور پر بھی اقدامات کئے ہیں، نیشنل ڈیٹا بیس کا قیام جس میں قومی شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، گاڑی کی نمبر پلیٹ، اسلحہ لائسنس، سم وغیرہ کی معلومات، قومی سطح پر قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ کریمنل ریکارڈ کا ڈیٹا محفوظ کرنا، سوشل میڈیا بشمول فیس بک،، واٹس ایپ، ٹیوٹر وغیرہ کی موثر انداز میں نگرانی شامل ہیں۔