شعبہ صحت میں آئندہ مالی سال 2018-19 میں غیر ترقیاتی مد میں 12.2 ارب روپے،

ترقیاتی مد میں 12.50 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، شعبہ صحت میں مزید بہتری لانے کے لئے نجی شعبہ کو بھی صحت کی پرائمری اور سیکنڈری سطح پر فراہمی کے لئے اپنے ساتھ شامل کیا ہے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی سندھ بجٹ 2018-19ء اجلاس میں صحت کے حوالے سے تقریر

جمعرات مئی 22:41

شعبہ صحت میں آئندہ مالی سال 2018-19 میں غیر ترقیاتی مد میں 12.2 ارب روپے،
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ بجٹ 2018-19 اجلا س میں صحت کے حوالے سے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ محکمہ صحت کو ہمیشہ سے ہماری سماجی شعبہ کے ایجنڈے میں بہت اہمیت حاصل ہے اور گذشتہ ایک عشرہ کے دوران حکومت سندھ نے شعبہ صحت میں بہتری لانے کے لئے کثیر سرمایہ خرچ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت میں مزید بہتری لانے کے لئے نجی شعبہ کو بھی صحت کی پرائمری اور سیکنڈری سطح پر فراہمی کے لئے اپنے ساتھ شامل کیا ہے،1210صحت کے مراکز کو PPHIاور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے کیا گیا ہے جس میں ڈسپنسریاں بنیادی صحت کے مراکز ، دیہی صحت کے مراکز VICHمراکز، چند ٹی ایچ کیو اورڈی ایچ کیو ہسپتال شامل ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں توسیع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

(جاری ہے)

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ رواں مالی سال 2017-18کے دوران صحت کے شعبہ میں غیر ترقیاتی مد میں 85.3ارب روپے جبکہ ترقیاتی مد میں 15.50ارب روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ آئندہ مالی سال 2018-19میں غیر ترقیاتی مد میں 12.2ارب روپے جبکہ ترقیاتی مد میں 12.50ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت میں 50ارب روپے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں تمام شعبوں کے لئے علیحدہ سے 50ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ جاری ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل، موجودہ انفرا اسٹرکچر میں بہتری اور اس شعبہ میں نئی اسکیمیں شامل کرنے پر ہے اور روا ں مالی سال 2017-18میں صحت کے شعبے میں ہماری کار کردگی میں چند کو کامیابیاں زیر بحث ہیں جن میں 5.12 ارب روپے کی لاگت سے 68نئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں اور RHCs، ٹراما کم ایمرجنسی مراکز اور تمام ڈویژنل HQRs میں ویئر ہاوسز کی کولڈ اسٹوریج کی سہولیات فراہم کرنے کی تعمیر شامل ہے۔

اسحطرح RHC کو اپ گریڈ کر کے THQکا درجہ دینے کی 4 اسکیمیں شامل ہیں جن میں NIMRAجامشورو میں 1.086ارب روپے کی لاگت سے کینسر وارڈ کا قیام شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ EPI کا بجٹ سندھ ایمونائزیشن سپورٹ پروگرام کے تحت 100ملین روپے سے بڑھا کر 1.80ارب روپے کر دیا گیا ہے اور تھر پیکیج کے تحت موجودہ 1063 LHWsمیں 982.31ملین روپے کی لاگت سے 2160 LHWs کا اضافہ شامل ہے۔اس کے علاوہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈزیز (NICVD)کی خدمات کو تسلیم کیے بغیر صحت کے شعبہ میں کامیابیوں کا ذکر مکمل نہیں ہو سکتا یہ ادارہ دنیا بھر میں دل کے دورے اور پرائمری انجیو پلاسٹی کے شعبے میں سب سے بڑا مرکز ہے۔

NICVD سندھ کے عوام کو ان کی دہلیز پر بلا معاوضہ دل کی بیماریوں سے متعلق بر وقت علاج مہیا کر رہا ہے۔وزیرا علی سندھ نے کہا کہ اس وقت کراچی این آئی سی وی ڈی میں سینے کے درد کے چھ یونٹس فعال ہیں اور بہت جلد کراچی سمیت سندھ کے مختلف حصوں میں 60ایسے مراکز قائم کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ بھر کے کارڈیک سہولتوں سے مزین NICVDسیٹلائٹ مراکز 24/7 ایمرجنسی کی سہولت 100فیصد بلا معاوضہ فراہم کر رہے ہیں۔

ان مراکز میں بین الاقوامی اور انتہائی تربیت یافتہ اسپیشلشٹ پیرا میڈیکل اور تکنیکی ماہر ہر وقت موجود ہیں اور 212 ارب کی لاگت سے بہت جلد تین NICVD مراکز نواب شاہ خیر پور اور مٹھی میں فعا ل ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے تحت شاندار اقدامات1213صحت سہولیات کے مراکز کی کارکردگی کی بنیاد پر آٹ سورس کر دئے گئے ہیں ان میں 1049سہولیات کو PPHIاور 158صحت کے مراکز کو دیگر این جی اوز کو دئے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 108انٹیگریٹ ہیلتھ سروسز، 35 ہینڈز ، 01 انڈس ہاسپٹل 13 میڈیکل ایمرجنسی ریلیف فانڈیشن اور 01پاورٹی ایریڈیکیشن انیشیٹیو کو دئے ہیں۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ دو ریجنل بلڈ ٹرانفیوژن مراکز سکھر اور جامشورو میں بالترتیب سکھر بلڈ بنک اور انڈس اسپتال کو آٹ سورس کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ آئندہ مالی سال 2018-19کیلئے SIUTکو پانچ ارب روپے دے رہی ہے جس میں 497.5ملین روپے کی لاگت سے لاڑکانہ میںSIUTکا قیام شامل ہے۔

اسکے علاوہ SIUT سکھر 552.27ملین روپے کی لاگت سے قائم کیا جا رہا ہے اور اس ادارے کا مقصد مناسب طریقہ سے او پی ڈی تشخیص ، ڈائی لایسز اور دیگر خدمات کی فراہمی ہے۔ SIUTمیں بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت 692.779ملین روپے کی لاگت سے فراہم کی جارہی ہے جس میں 50-100مریضوں کو آرٹ انفرا اسٹرکچر اور دیگر سہولیات فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چائلڈ لائف فانڈیشن تین سرکاری اسپتالوں میں پی پی پی معاہدے کے تحت بچوں کے لئے ایمرجنسی رومز کو چلا رہی ہے اورڈاکٹر رتھ فا سول اسپتال کراچی،، نیشنل اینسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اور سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2018میں چائلڈ لائف فانڈیشن دو مزید اسپتالوں عباسی شہید اسپتال کراچی اور لیاری جنرل اسپتا ل کراچی میں ایمرجنسی سروس شروع کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جون2018میں چائلڈ لائف ERآپریشن کی سہولت پیپلز میڈیکل کالج نواب شاہ اور چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں شروع کرے گی اور 2018کے آخر تک بچوں کے ERsغلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر اور لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں فعال ہوجائیں گے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ GAMBATکی گرانٹ 1500 ملین روپے سے بڑھا کر 2.55بلین روپے کردی ہے ً اور شہداد پور انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کی گرانٹ کو 1750ملین روپے سیبڑھا کر 300ملین روپے کر دیا گیا ہے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ غذائی قلت اور سوکھے کی بیماری پر قابو پانے کے لئے صوبہ سندھ کو اپنے بچوں میں کم غذائیت اور سوکھے کی بیماری کا چیلنج در پیش ہے اور سندھ کے 48فیصد بچے غذائی قلت اور سوکھے کی بیماریوں کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے ورلڈ بنک کے تعاون سے کثیر الجہت منصوبوں کا آغاز کیا ہے اور بچوں میں آئندہ پانچ سالوں میں سوکھے کی بیماری کی سطح کو کم کرکے 30 فیصد تک لایا جاسکے۔ سال برائی2017-18میں اس پروگرام کے تحت غیر ترقیاتی مد میں 2.4 ارب روپے مختص کرنے پر غور کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کے لئے 5.1ارب روپے مختص کرنے پر غور کررہے ہیں اس منصوبے کے لئے صحت زراعت ، لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ، لوکل گورنمنٹ اور سوشل ویلفیئرکے محکمے اہم قرار دئے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں بڑی تعداد میں منصوبوں کی تجویز دی گئی ہے جن میں سے چند کا ذکر کر نا چاہوں گا۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل سینٹر برائے کیمیکل اینڈ بائیو لوجیکل سائنسز کے لئے رقم کا مختص کیا جانا تاکہ کراچی یونیورسٹی میں قائم جمیل الرحمان سینتر برائے Genomeریسرچ میں DNAلیب قائم کی جاسکے اور لیاری جنرل اسپتال میں کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کر بہتر کرنا،،سندھ اینٹی ٹیوٹ آف Opthalmology اور Visual Sciences حیدر آباد کو بہتر بنانا، لیاقت یو نیورسٹی ہسپتال حیدر آباد میں200بستروں پر مشتمل نیفرو لوجی،گیسٹرونلوجی ، اینڈو اسکوپی ،سویٹ ، ڈر میٹولوجی، اینڈو کرائینولوجی اور ڈائیبیٹیز بلاک کا قیام،،شہید بینظیر آباد میں NICVDسیٹلائٹ مرکز کا قیام، شیخ زید کیمپس CMCHلاڑکانہ میں نرسنگ ہاسٹل ، بچوں اور عورتوں کے لئے وارڈز ، OT، ایکسٹرنل ڈولپمنٹ اور دیگر سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میر پور خاص میں نرسنگ اسکول اور ہاسٹل کی عمارت تعمیر کرنا،ضلع شکار پور میں رورل ہیلتھ مرکز کو اپ گریڈ کر کے تعلقہ ہسپتال خانپور کا درجہ دینا، محکمہ صحت کے افسران و عملے کی استعداد کار کو مزید بہتر بنانے کے لئے ڈولپمنٹ ونگ کو بہتر کرنا بھی شامل ہیں۔انڈس اسپتال بدین کے حوالی سے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں کی جا نے والی شا ندا ر پیش رفت میں OPDs اور IDPs اور سر جر ی وغیرہ میں بہتری لا ئی گئی ہیں اور ما ر چ 2016میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ز بدین کا انتظا م انڈس ہسپتا ل کو پبلک پرا ئیوٹ پا ر ٹنرشپ کے تحت دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال اب سال کے 365دنو ں 24گھنٹے کھلا رہتا ہے اور او سطا تما م خد ما ت میں 10گنا ہ تک بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیشلا ئزڈ خد ما ت مثلا پیڈس ای آر ،تین شفٹو ں میں ڈائیلا ئسز ،معیا ر ی اور محفو ظ خو ن کی فرا ہمی اور بین الا قوامی معیا ر کے مطا بق تشخیص کی سہو لیا ت فرا ہم کی گئی ہیں اور انڈس ما ڈل کیش لیس ،پیپر لیس اور معیا ر ی نگہدا شت کو منعکس کر تا ہے ۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ بدین کے شہری بہت جلد 250بسترو ں پر مشتمل بہترین خد ما ت کے اس اسپتال سے مستفید ہو سکیں گے۔