سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریرکے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں شدید احتجاج کیا اورنعرے بازی کی

اپوزیشن ارکان نے اسپیکرڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے گلی گلی میں شورہے ، پپو،پھوپھو پارٹی چورہے کے نعرے لگائے ایجنڈے کا پیاں پھاڑکرایوان میں اڑادیں اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی کے باعث وزیراعلی کواپنی بجٹ تقریرجاری رکھنا دشوارہوگیا

جمعرات مئی 22:48

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریرکے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں شدید احتجاج کیا اورنعرے بازی کی ،اپوزیشن ارکان نے اسپیکرڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے گلی گلی میں شورہے ، پپو،پھوپھو پارٹی چورہے کے نعرے لگائے جبکہ ایجنڈے کا پیاں پھاڑکرایوان میں اڑادیں اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی کے باعث وزیراعلی کواپنی بجٹ تقریرجاری رکھنا دشوارہوگیا ۔

اپوزیشن کے شورشرابے سے ناراض ہوکروزیراعلی سندھ نے اپوزیشن کومتنبہ کیا کہ اگربجٹ تقریرکے دوران ہماری قیادت کے خلاف بات کی گئی تو اس کے نتیجے میں جوکچھ ہوا اس کے ہم ذمہ دارنہیں ہونگے انہوں نے یہ بھی کہاکہ آپ نے اپنے لیڈرکودھتکاردیا لیکن ہمیں اپنی لیڈرشپ پرناز ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعلی سندھ نے انتہائی جذباتی اندازاپناتے ہوئے یہ بھی کہاکہ کسی نے ہماری لیڈرشپ کے خلاف زبان درازی کی تو ہم جان کی پرواہ بھی نہیں کریں گے۔

سندھ اسمبلی میں جمعرات کووزیراعلی سندھ کی جانب سے بجٹ تقریرکے آغازپرہی کشیدگی کے آثارنمایاں تھے اپوزیشن کے ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے جب وزیراعلی سندھ نے اپنی بجت تقریرکا آغازکیا تو اپوزیشن کی نشستوں پرموجود بیشترارکان اٹھ کھڑے ہوئے اورانھوں نے یہ اعتراض کیا کہ انہیں مکمل بجت دستاویزات فراہم نہیں کی گئی ہیں جس پراسپیکرآغاسراج درانی نے اپوزیشن ارکان سے کہاکہ وہ صبروتحمل کے ساتھ اپنی نشستوں پربیٹھیں اسمبلی اسٹاف ان تک دستاویزات پہنچارہا ہے لیکن اپوزیشن ارکان وزیراعلی کی پوری بجٹ تقریرکے دوران مسلسل شورشرابا اورنعرے بازی کرتے رہے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اپوزیشن کے احتجاج کونظراندازکرتے ہوئے اپنی بجٹ تقریرجاری رکھی جبکہ اپوزیشن ارکان کے نعروں اوراحتجاج میں شدت آگئی اپوزیشن ارکان نے ایوان میں گلی گلی میں شورہے ، پپو پھوپھو پارٹی چورہے ، آئی آئی نیب آئی جس پرمراد علی شاہ نے کہاکہ ہم دوبارہ حکومت میں آئیں گے اوردوبارہ صوبائی بجٹ پیش کریں گے یہاں جولگ شورمچارہے ہیں ان کے نصیب میں صرف شورمچانا ہی رہ گیا ہے وزیراعلی سندھ نے کہاکہ قصورشورمچانے والے ارکان کا نہیں ان کی لیڈرشپ کی تربیت کا ہے ۔

ہماری لیڈرشپ کے اعلی سیاسی کردارکی مثال یہ ہے کہ بلاول بھٹو نے اسپتال جاکروفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کی عیادت کی ہے۔ اپوزیشن کے شورشرابے اوراحتجاج کے دوران ہی وزیراعلی سندھ نے اپنی بجٹ تقریرمکمل کی جس کے بعد اسپیکرآغاسراج درانی نے اجلاس پیر14 مئی تک ملتوی کردیا ۔