رمضان المبارک کی آمد قریب ہونے کے باوجود تاحال صفائی ستھرائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کوئی بھی اقدامات نہیں اٹھائے گئے،حاجی محمد جاوید میمن

تاجروں اور شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، میئر سکھر اور انتظامیہ صرف اخبارات میں بیانات جاری کرنے کی حد تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں،صدر سکھر اسمال ٹریڈرز

جمعرات مئی 22:51

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد قریب ہونے کے باوجود تاحال انتظامیہ کی جانب سے شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کوئی بھی اقدامات نہیں اٹھائے گئے، اہم تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال کے باعث تاجروں اور شہریوں کو شدید پریشانی اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، شہر سے منتخب نمائندے، میئر سکھر اور انتظامیہ صرف اخبارات میں بیانات جاری کرنے کی حد تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، جبکہ شہری مسائل کے حل کیلئے کوئی بھی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے، جس کے باعث تاجروں اور شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف علاقوں سے آنیوالے تاجروں کے نمائندہ وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر حاجی غلام شبیر بھٹو، عبدالستار راجپوت، عامر فاروقی، شکیل قریشی، زبیر قریشی، عبدالقادر شیوانی، حاجی پرویز چنہ،رئیس قریشی،شریف ڈاڈا، بابو فاروقی، سید محمد شاہ، دوا خان، ظہیر بھٹی،محمد منیر میمن، عبدالباری انصاری، بابا جھنڈے شاہ، ڈاکٹر سعید اعوان، لالہ یاسر،ذاکر بندھانی، فخر الدین عباسی، صداقت خان، محمد شبیر میمن، و دیگر بھی موجود تھے۔

حاجی محمد جاوید میمن کا مزید کہنا تھا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ سندھ کے تیسرے بڑے شہر اور اہم تجارتی مرکز سکھر انتظامیہ کے تمام تر اقدامات اور دعوئوں کے باوجود آج بھی مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، شہریوں کو جہاں صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال سے پریشانی اور دوشوریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہی پینے کے صاف پانی کی قلت نے شہریوں کو ذہنی مریض بنادیا ہے، انہوں نے حکومت اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل شہر کے اہم تجارتی مارکیٹوں، مساجد کے اطراف اور رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے خصوصی پلان تشکیل دیکر اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ اس مقدس مہینے میں شہریوں، تاجروں اور خریداری کیلئے آنے والے مرد و خواتین کو کسی قسم کی دشواریوں سے محفوظ رکھا جاسکے ۔