نفرت کی سیاست نہیں ہونی چاہیے ،بڑی مشکل سے نیشنل ایکشن پلان بنا، ،انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں متحدہونا پڑے گا

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی احسن اقبال کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو

جمعرات مئی 23:03

نفرت کی سیاست نہیں ہونی چاہیے ،بڑی مشکل سے نیشنل ایکشن پلان بنا، ،انتہا ..
لاہور۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن ہم سب کو نفرت کی سیاست کے خلاف اکٹھا ہونا چاہیے تاکہ انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جا سکے،،احسن اقبال پر حملے جیسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں اوراس حملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سروسز ہسپتال میں زیر علاج وزیر داخلہ احسن اقبال کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر چوہدری منظور اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احسن اقبال کو جلد صحتیاب کرے ۔ اس طرح کے واقعات کی ہمیشہ سے مذمت کرتا ہوں کیونکہ ہم سب انسان پہلے ہیں اورسیاستدان بعد میں ہیں ،اس طرح کے واقعات بالکل نہیں ہونے چاہئیں اور احسن اقبال پر حملے کے واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ آج بھی کہتا ہوں کہ نفرت کی سیاست کے خلاف ہم سب کو ایک ہونا چاہیے ۔

چاہے کوئی حکومتی بینچوں پر ہو یا اپوزیشن میں نفرت کے سیاست کے خلاف زیرو ٹالیرنس ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے مزار قائد کے سامنے جلسے کا اعلان کیا پھر حکیم سعید گرائونڈ میں کیمپ لگا دیا،،تحریک انصاف والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔پیپلزپارٹی نے حکیم سعید گرائونڈ میں جلسے کی باقاعدہ اجازت لے رکھی تھی ،یہ لڑائی کا موقع نہیں تھا، اب بھی کہتا ہوں کہ نفرت کی سیاست نہیں ہونی چاہیے ،،کراچی میں قیام امن کے لئے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔