ماہ رمضان سے قبل جسٹس شوکت عزیزصدیقی کامیڈیا کی خرمستی وفحاشی کیخلاف ایکشن قابل تعریف ہے،ہدایت الرحمان

جمعرات مئی 23:22

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری وایم ایم اے کے جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کامیڈیا کی خرمستی وفحاشی کے خلاف ایکشن قابل تعریف ہے ،عبادتوں کے مہینے میں میڈیا کی مادرپدرآزادی ،خواتین گلوکاروں کی غیر اسلامی لباس میں نام نہاداسلامی لیکچرزلوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کے مترادف ہے ،میڈیا کی فحاشی مسلم نوجوانوں کو اسلام واسلامی تعلیمات سے دور کرنے کی سازش ہے یہ حقیقت کے مسلمانوں کیلئے آذان سے بڑھ کر بریکنگ نیوزنہیں مگرٹی وی چینلزکا بریکنگ نیوز طلاق،، فیشن شو،خواتین کا مقابلہ حسن،نوجوانوں کے عشق ومحبت ، لڑکیوں کا گھروں سے بھاگنے ،خواتین کا تنگ لباس جیسے غیر ضروری وفحاشی وسنسنی پرمبنی خبریں ہی بریکنگ نیوزبنی ہوئی ہیں سازش کے تحت ٹی وی چلینلز نے اسلامی تعلیمات سے منہ موڑ اہے گزشتہ دس پندرہ سالوں میں ٹی وی چینلز سے کیوں پانچ وقت کی آزانیں نشر نہیں کی کیوں کسی چینل نے نوجوان لڑکیوں کے مقابلہ حسن کے بجائے مقابلہ حسن قرآن ،مقابلہ نعت ومقابلہ حمدکے مقابلے نہیں دیکھائے،مارننگ شوز میں کیوں تلاوت قرآن ، نمازسیکھنے ،نمازوفرائض کے مسائل پر علمائے کرام کی رائے پر مبنی پروگرام شروع نہیں کیے کیایہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جس کو بھی قو م واسلام سے محبت ہوگی وہ اس قسم کی فالتو، فحاشی وعریانی اور بے راہ روی پر مبنی پروگرامات پسند نہیں کرتے ۔نوجوان نسل کو تباہ وبرباد اور مثالی اسلامی معاشرتی وخاندانی نظام کو تباہ کرنے میں ہمارے ٹی وی چینلزدشمن کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں مادر پدر آزادی ،،طلاق کا شرح بڑھانے ،گھروں سے خواتین ولڑکیوں کے بھاگنے جیسے واقعا ت بڑھانے میں ٹی وی چینلز نے بڑامنی کردارادا کیا ہے ٹی وی چینلزپر سرکس ،فحاشی وعریانی اور نیلام گھر جیسے پروگرامات پر پابندی خوش آئندہے اسے صرف رمضان المبارک تک محدود نہ کیا جائے بلکہ مستقبل اس عذاب سے قوم کو نجات دلائی جائیں اسلام آبادہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے قوم کی دلوں کی آواز پر لبیک کہہ کرایکشن لیا ہے قوم کو فحاشی وعریانی وبے راہ روی سے بچاناسب سے بڑی خدمت ہے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کی معاشرتی زندگی خاندانی نظام کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے چیف جسٹس نیٹ یعنی سوشل میڈیا پر بھی فحاشی پھیلانے کی سازش کو رکھوائیں اور فحاشی کے سیلاب کو روک لیں تاکہ قوم تباہی وبربادی سے بچ سکیں۔