مولانا سرور ندیم کا الیکشن کمیشن کی جانب سے شیرانی اور موسیٰ خیل کی حلقہ بندیوں پر فیصلے کی نقول نہ ملنے کے خلاف احتجاج کا اعلان

کمیشن نے از خود ہرنائی کا حلقہ ختم کر کے شیرانی کو الگ اور موسیٰ خیل کو الگ حلقہ بنادیا، پھر اچانک شیرانی اور موسیٰ خیل کو ایک حلقہ قرار دے کر ان کی نشستیں واشک اور خاران میں منتقل کر دی گئیں، سابق صوبائی وزیرکی پریس کانفرنس

جمعرات مئی 23:35

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر مولانا محمد سرور ندیم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے شیرانی اور موسیٰ خیل کی حلقہ بندیوں پر فیصلے کی نقول نہ ملنے پر احتجاج کر نے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن نے از خود ہرنائی کا حلقہ ختم کر کے شیرانی کو الگ اور موسیٰ خیل کو الگ حلقہ بنادیا، پھر اچانک شیرانی اور موسیٰ خیل کو ایک حلقہ قرار دے کر ان کی نشستیں واشک اور خاران میں منتقل کر دی گئیں،،الیکشن کمیشن میں دی گئی درخواست پر آئے فیصلے کی نقول تاحال ہمیں موصول نہیں ہوئی، ایک ہفتہ سے ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں مگر کمیشن ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں کی گئی نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی گئی۔

(جاری ہے)

اس ہنگامی کانفرنس میں بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل اور شیرانی کے ساتھ کی گئی ناانصافی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں سابق صوبائی وزیر مولانا محمد سرور ندیم،حاجی محمد حسن شیرانی سابق ناظم شیرانی، ڈسٹرکٹ چیئر مین پی کے میپ سلطان شیرانی،صوبائی رہنما پی ٹی آئی گل آدم شیرانی،صوبائی رہنما و ضلعی صدر اے این پی ملک امان اللہ اور صوبائی رہنما پشتونخواہ سردار تیمور خان سمیت دیگر رہنمااور کارکنوں نے شرکت کی۔

سابق صوبائی وزیر محمد سرور ندیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے ابتدائی حلقہ بندیوں میں بغیر منصوبہ بندی کے غیر مساویانہ طریقہ اپناتے ہوئے علاقائی و برادری کی تقسیم کو بلا ئے طاق رکھا اور انہوں نے کہا کہ کمیشن نے از خود ہرنائی کا حلقہ ختم کر کے شیرانی کو الگ اور موسیٰ خیل کو الگ حلقہ بنادیا۔چند علاقوں میں آبادی کم ہونے کی وجہ سے وہاں کی سیٹیں دوسرے علاقوں میں ضم کر دی گئیں۔

پھر اچانک شیرانی اور موسیٰ خیل کو ایک حلقہ قرار دے کر ان کی نشستیں واشک اور خاران میں منتقل کر دی گئیں۔جس پر الیکشن کمیشن میں دی گئی درخواست پر آئے فیصلے کی نقول تاحال ہمیں موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ سے ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں مگر کمیشن ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مورخہ 11 مئی بروز جمعتہ المبارک کو موسیٰ اور شیرانی کے عوام کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا جس سے ڈیرااسماعیل خان کی جانب سے ژوب اور کوئٹہ جانے والی اور ڈیرا غازی خان سے موسیٰ خیل آنے والی شاہراہ کو بند کر کے بلوچستان کو پنجاب اور پختونخواہ سے منقطع کر دیا جائے گا اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمیں ہمارا آئینی حق نہیں مل جاتا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ چیئر من شیرانی سلطان شیرانی نے کہا کہ بلوچستان کے معروضی حالا ت مختلف ہیں۔۔بلوچستان میں پشتون اور بلوچ اکھٹے رہتے ہیں اور چند بلوچوں کو خوش کرنے کیلئے پشتون بیلٹ سے نشستیں بلوچ بیلٹ منتقل کی گئیں۔اس منتقلی کی وجہ سے ہمارے علاقہ میں آیا روز جلسے اوراحتجاج ہورہے ہیں۔3 تاریخ سے فیصلہ آیا ہوا ہے مگر الیکشن کمیشن سے ہمیں ابھی تک فیصلے کی نقول نہیں ملی۔

اور اب جمعتہ المبارک سے شروع ہونے والے احتجاج سے دونوں ہائی ویز بند کر کے بلوچستان کو پنجاب اور کے پی سے منقطع کر دیا جائے گا اور یہ احتجاج ہمارے حقوق ملنے تک جاری رہے گا۔سابق ناظم شیرانی حاجی محمدحسن نے کہا کہ موسیٰ خیل اور شیرانی کا ایک ہی موقف ہے۔دونوں علاقوں پر ایک ہی تلوار چلائی گئی ہے۔ 15 دن پہلے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ 5 تاریخ کو فیصلے کی نقول دے دی جائے گی مگر تا حال ہمیں فیصلے کی نقول نہیں دی گئی۔

فیصلے کی نقول ہمیں اسی لیے نہیں دی جاری تا کہ ہماری عدلیہ تک رسائی نہ ہو سکے۔ موسیٰ خیل اور شیرانی کی تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور اپنے اس آئینی حق کیلئے ہر ممکن جدو جہد کریں گے۔پریس کا نفرنس سے دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کرتے ہوئے موسیٰ خیل اور شیرانی کے ساتھ ہوئی نا انصافی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خیل اور شیرانی کو الگ الگ صوبائی اسمبلی کی نشستیں دی جائیں۔