چیئرمین سینیٹ کا حکومت پر فنانس بل میں اراکین سینیٹ کی سفارشات کو اہمیت دینے پر زور، اراکین کا قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ کو بھی باختیاربنانے کا مطالبہ

سینیٹ میں مالی اختیارات کے معاملے میں تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، کہ اگر اسمبلی کے بعد سینیٹ کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے تو پارلیمنٹ لولی لنگڑی ہے، ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمان،سینیٹر عثمان کاکڑ، فاروق ایچ نائیک، مشتاق احمد ، سسی پلیجو اور دیگر کا نکتہ اعتراض پر اظہارخیال

جمعرات مئی 23:38

چیئرمین سینیٹ کا حکومت پر فنانس بل میں اراکین سینیٹ کی سفارشات کو اہمیت ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ فنانس بل میں اراکین سینیٹ کی سفارشات کو اہمیت دے ، اراکین سینیٹ نے قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ کو بھی باختیاربنانے کا مطالبہ کر دیا، حکومت بجٹ سیشن کے دوران سینیٹ کو اہمیت نہیں دیتی ، حکومت اور اپوزیشن سینیٹرز نے سینیٹ کو اختیارات دینے کا مطالبہ کردیا ۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز ایوان بالا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ کہ گذشتہ سال ایک قرارداد منظور ہوئی تھی جس میں سفارشات کی گئی تھیںجو سابق چیئرمین فاروق نائیک نے فنانس کے متعلق سفارشات اسمبلی بھیجی جس میں کہا گیا تھااراکین سینیٹ کو اختیارات ہونے چاہیئے ،ٹیکس اور ترقیاتی فنڈز ہونے چاہیے ، سینیٹ کے اختیارات کے حوالے سے کئی بار قرارداد منظور ہوئی تھیں ۔

(جاری ہے)

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر عثمان کاکڑ کہا کہ سینیٹ میں ہر پارٹی سے ہیں، موجودہ حکومت جاتے جاتے ایک تحفہ دے سینیٹ کے اختیارات کا بل قومی اسمبلی میں لا کر اسے پاس کر کے جائے ۔ سینیٹر انوار الحق نے کہا کہ 1971کے سانحہ کے بعد ہائوس آف فیڈریشن کو مضبوط بنانا چاہیے تھے ۔ حکومت کو یقین دلاتے ہیں سینیٹ کے اختیارات کا مقصد اسمبلی کی طاقت کو ختم نہیں کرنا ہے ۔

پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سینیٹ ممبران کی خواہش بلاوجہ نہیں ہے ، قانون سازی کا کردار سینیٹ اور اسمبلی کو دی گئی ہے ۔ فنانس بل کا اختیارات اسمبلی کے پاس ہے جو سینیٹ قومی اسمبلی کو بل بل بھیجتے ہیں تو اسمبلی سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی کے بعد سینیٹ کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے تو پارلیمنٹ لولی لنگڑی ہے ۔

پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر سکندر نے کہا کہ نئی بل میں سینیٹ کو اہمیت دینی چاہیے ، بہت مرتبہ قراردادیں پاس ہوئیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ سینیٹ فیڈریشن کی نمائندہ ہے ، صدر، وزیراعظم ان ڈائریکٹ پاس ہوتے ہیں ۔ سپیکر تک ان ڈائریکٹر منتخب ہوتے ہیں ، اگر سینیٹسپریمہائوس ہے سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو پھر یہاں بیٹھنے کا فائدہ کیا ہے ۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ پارلیمنٹ کا بیلنس ہموار نہیںہے ، توازن کا ایک طرف جھکائو بہتر نہیں ہے ، اسمبلی میں غیر متوازن ہے سینیٹ میں متوازن نہیں ہے ، اسے مالی اختیارات دیے جانے چاہیئں ۔ سینیٹر سسی پلیجونے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ڈکٹیٹر شپ میں اسے کاغذ کا ٹکڑا بنانے کی کوشش کی ہے ، جمہوریت میں اسے بہتر بنانے کی کوشش ہے سینیٹ کو مالی معیشت دینی چاہیے ۔

سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ سینیٹ وفاق کی علامت ہے جب تک سینیٹ کو مالی اختیارات نہیں ملیں اس وقت تک ہم تقریریں کرتے رہیں گے ۔ سینیٹ میں مالی اختیارات کے معاملے میں تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں ۔ بتایا جائے رکاوٹ کون ہے ۔ سینیٹر جاوید عباسی نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کی حمایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو سفارشات اسمبلی کو بھیجیں ان پر لازم کیا جائے کہ اسمبلی ڈسکس کر کے ان سفارشات پر عمل درآمد کرے ۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اس بل پر سنجیدہ ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ سینیٹر میر کبیر احمدنے کہاکہ گزشتہ تین سالوں سے سینیٹ کو طاقت دینے کے حوالے سے باتیں کی گئی ہیں ۔ سینیٹ کوباا ختیار بنا کر استحکام بخشا جائے ۔ پیپلزپارٹی کے امان الدین شوقین نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک نے بل پر بڑا کام کیا ہے مشترکہ کمیٹی بنا کر اس مسئلے کو حل کیا جائے ۔

سینیٹر محسن عزیزنے حمایت کرتے ہوئے کہا اس پر کئی بات ہوچکی ہے اب ٹھوس بات کی جائے ۔سینیٹر موسیٰ اعظم خیل قانون سازی ہم کرتے ہیں لیکن بجٹ میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے ۔ اگر ہم سینیٹر رائے ایوان بالا ہیں تو ہمیں بھی بجٹ سازی میں اختیارات ہونا چاہیے ۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ ایوان میں اگر ہما شنوائی نہیں ہوتی تو ہمیں سوچنا ہماری آئینی حیثیت کیا ہے ۔ سینیٹ کے اختیارات اسمبلی کے برابر ہونے چاہیے ۔ سینیٹ میں 104اراکین ہیں ، ان کی سفارشات کو اہمیت ملنی چاہیے ۔ چیئرمین سینیٹ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فنانس بل میں سینیٹ کی سفارشات کو اہمیت دے ۔ فنانس بل ایڈوائزر ی کمیٹی میں بھیجا جائے ۔