وزیر تجارت پرویز ملک کا آذربائیجان کے ساتھ باہمی تجارت میں کمی پر تشویش کا اظہار

وفاقی وزیر سے دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق

جمعرات مئی 23:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) وزیر تجارت پرویز ملک نے آذربائیجان کے ساتھ باہمی تجارت میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت تجارت نے آذربائیجان کے ساتھ تجارتی حجم بڑھانے کیلئے پانچ سالہ منصوبہ پر مبنی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کی ہے جس کو تمام متعلقہ شراکت داروں اور آذربائیجان کی حکومت کے سامنے رکھا گیا ہے۔

وہ پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر علی علیزادہ کے ساتھ ملاقات کے دوران بات چیت کررہے تھے۔ وفاقی وزیر نے آذربائیجان کے ساتھ تجارت اور باہمی معاشی تعلقات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں دونوں اطراف سے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015-16ء میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 58.26 ملین ڈالر تھا جو 2017ء میں کم ہو کر 26.28 ملین ڈالر رہ گیا جو تشویشناک ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور آذربائیجان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فوائد حاصل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین فارماسیوٹیکلز، چاول، ٹیکسٹائل، ریڈی میڈ گارمنٹس، خام کپاس، کھیلوں کے سامان، سرجیکل آلات، پٹرولیم مصنوعات، پھل اور ایل پی جی کے شعبوں میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اس سلسلہ میں مکمل تعاون کرے گی۔ اس موقع پر آذربائیجان کے سفیر علی علیزادہ نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مقام ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر سے دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف سے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر باہمی تجارت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :