جرمنی کی عدالت نے خاتون کو ’حجاب‘ کے ساتھ تعلیم دینے سے روک دیا

جمعرات مئی 23:43

برلن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) جرمنی کے دارالحکومت جرمنی کی لیبر عدالت نے انتظامیہ کے ٹیچر کو مسلم حجاب پہن کر پرائمری اسکول کلاسز میں تعلیم دینے سے روکنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے خاتون کی امتیازی سلوک کی شکایت خارج کردی۔

(جاری ہے)

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جسٹس آرنے بوئیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کا غیر جانبداری کا قانون، جو ریاستی ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران مذہبی علامات ظاہر کرنے اور مذہبی لباس زیب تن کرنے سے روکتا ہے، مذہبی اظہار کے حق سے زیادہ ضروری اور مضبوط ہے تاہم عدالت نے کہا کہ چونکہ خاتون کا نام عوامی طور پر سامنے نہیں آیا اور وہ عدالت میں بھی پیش نہیں ہوئیں، خاتون کو برلن کے سرکاری سیکنڈری اسکول میں تعلیم دینے کی اجازت ہے۔

عدالتی فیصلہ جس کے خلاف ممکنہ طور پر اپیل دائر کی جائے گی ،ْ جرمنی میں اس معاملے پر بڑے پیمانے پر ہونے والی بحث پر اثرانداز ہوگا، جہاں ’حجاب‘ کے حوالے سے 16 ریاستوں میں مختلف قوانین رائج ہیں۔۔جرمنی کا قومی قانون تمام شہری ملازمین کے چہرے ڈھانپنے پر پابندی عائد کرتا ہے جس میں مسلم ’نقاب‘ اور ’برقع‘ بھی شامل ہے تاہم صحت اور حفاظتی وجوہات کی بنا پر فائر فائٹرز سانس لینے والا ماسک پہن سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :