46ریسکیو ورکرز کو مستقل نہ کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی 30مئی کو ہوگی

فائر فائٹرز کو فائر رسک الائونس کی ادائیگی نہ کرنے پر چیف سیکریٹری کو 15مئی کو طلب کرلیا گیا ۔76ٹیچرز کے کیس کی بھی ان کیسز کے ساتھ سماعت کاحکم

جمعرات مئی 23:46

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل بینچ کے روبرو کے ایم سی وڈی ایم سیز کے ملازمین کے کیسز کی سماعت ہوئی۔سیدذوالفقارشاہ اور46ریسکیو ورکرز کو مستقل کرنے کے عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر سیکریٹری بلدیات اور چیف سیکریٹری سندھ کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کے موقع پر عدالت نے حکم دیا کہ46ریسکیو ورکرز کو مستقل کرنے کی سمری 30مئی تک منظور کرکے عدالت میں پیش کی جائے ۔

جبکہ فائر فائٹرز کو10ماہ کے فائر رسک الائونس کی ادائیگی کے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر چیف سیکریٹری کو 15مئی کو جواب طلب کرنے کے لیے عدالت نے طلب کرلیا ۔جبکہ تنخواہوں ،پنشن کی عدم ادائیگی کیس اور761کے ایم سی وڈی ایم سیز کی ٹیچرز کے کیسز کی سماعت بھی ایک ساتھ 15مئی کو کرنے کا حکم جاری کردیا ۔

(جاری ہے)

سندھ ہائی کورٹ میں کے ایم سی وڈی ایم سیز کے 80ہزار ملازمین وپنشنرز کی تنخواہ پنشن کی ادائیگی میں باقاعدگی لانے کے لیے دائر سجن یونین (سی بی اے ) کے ایم سی کے صدر سیدذوالفقارشاہ ،جسٹس ہیلپ لائن کے صدر ندیم شیخ ایڈوکیٹ اور ریٹائر پنشنرز کے نمائندے محمد اسمٰعیل شہیدی کی درخواستوں کی سماعت جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل ڈویثرن بینچ میں ہوئی ۔

عدالت میں اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل سندھ ،کے ایم سی کی لیگل ایڈوائزر ،ندیم شیخ ایڈوکیٹ ،سیدشعاع النبی ایڈوکیٹ ،سیدذوالفقارشاہ ،اسمٰعیل شہیدی ،چھ ڈی ایم سیز کے وکلاء ،سیکریٹری سروسز ،فائر فائٹرز اور ٹیچرز کی بڑی تعداد موجود تھی ۔درخواستوں کی سماعت15مئی کو 11بجے ہوگی ۔